Rizwan Zubair

مادّہ ظ ن ن

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 2 · English

ظ ن نẓ-n-n

(ن) ظَنَنَ يَظْنُنُ (اصلی) ⟵ ظَنَّ يَظُنُّ ظَنًّا: گمان کرنا، خیال کرنا۔ یہ افعالِ قلوب میں سے ہے اور دو مفعول لیتا ہے۔ اس کا مفہوم دونوں طرف جھکتا ہے، اور سیاق سے متعین ہوتا ہے: (۱) راجح گمان، یعنی یقین کے قریب سمجھ لینا — ﴿الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ أَنَّهُمْ مُّلَاقُوْا رَبِّهِمْ﴾ (البقرۃ ۲:۴۶) میں اکثر مفسرین نے اسے یقین کے معنی میں لیا ہے؛ (۲) مرجوح گمان و شک، جو مذمت کے سیاق میں آتا ہے — ﴿وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّوْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۷۸)۔ ظَنٌّ ج ظُنُوْنٌ (اسمِ ذات): گمان، خیال (اردو میں «ظن، ظنی» اسی معنی میں)۔ ظَنِيْنٌ (فَعِيْلٌ): جس پر تہمت کی جائے، مشکوک۔

«عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن» (ضربِ کلیم)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ