ز ق مz-q-m
— زَقُّوْمٌ: جہنم کا ایک درخت جس کا پھل جہنمیوں کا کھانا ہو گا؛ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم بدمزہ چیز کو زبردستی نگلنے کا ہے (تَزَقَّمَ الطَّعَامَ = کراہت کے ساتھ نگلا)۔ قرآن میں تین بار: ﴿اَذٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ﴾ (الصافات ۳۷:۶۲)؛ ﴿اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِيْمِ﴾ (الدخان ۴۴:۴۳-۴۴)؛ ﴿لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۵۲)