ز م لz-m-l
— زَمِيْلٌ: ساتھی، ہم سفر۔
تفعل تَزَمَّلَ يَتَزَمَّلُ تَزَمُّلًا: کپڑا لپیٹ لینا، چادر اوڑھ لینا؛ مُتَزَمِّلٌ ⟵ مُزَّمِّلٌ (تاء کو زاء میں مدغم کر دیا گیا): چادر لپیٹنے والا — اور اسی سے سورت کا نام ہے۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ (المزمل ۷۳:۱)
نوٹ: یہ اور «الْمُدَّثِّر» دونوں ایک ہی صرفی اصول کی مثال ہیں: باب تفعّل کی تاء کا اگلے حرف میں ادغام۔