ی ت مy-t-m
(ض، س) يَتَمَ يَيْتِمُ / يَتِمَ يَيْتَمُ يُتْمًا: باپ کے بغیر رہ جانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔ يَتِيْم ج يَتَامَيٰ وَأَيْتَام: یتیم — اہلِ لغت کی تصریح ہے کہ انسان میں یتیم وہ ہے جس کا باپ نہ ہو، اور جانوروں میں وہ جس کی ماں نہ ہو (اردو میں «یتیم، یتیمی» اسی معنی میں)؛ نیز اصل مفہوم تنہائی اور انفراد کا ہے (دُرَّة يَتِيْمَة = بے نظیر موتی)۔ صرفی نکتہ: يَتَامَيٰ وہی وزن (فَعَالَيٰ) ہے جو أَيَامَيٰ اور مَرْضَيٰ میں ہے۔ مثالیں: ﴿فَأَمَّا الْيَتِيْمَ فَلَا تَقْهَرْ﴾ (الضحٰی ۹۳:۹) اور ﴿وَآتُوا الْيَتَامٰۤي أَمْوَالَهُمْ﴾ (النساء ۴:۲)۔