ی ب سy-b-s
(س) يَبِسَ يَيْبَسُ يُبْسًا: (تری کے بعد) کسی چیز کا خشک ہو جانا، سوکھ جانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
يَبَسٌ (اسمِ ذات): وہ جگہ یا زمین جو تری کے بعد خشک ہو گئی ہو۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا﴾ (طٰہٰ ۲۰:۷۷)
يَابِسٌ، مؤنث يَابِسَةٌ ج يٰبِسٰتٌ (فَاعِلٌ کے وزن پر صفت): خشک۔ ﴿وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ﴾ (الانعام ۶:۵۹)؛ ﴿وَسَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ﴾ (یوسف ۱۲:۴۳)
اردو میں اس مادے سے: یبوست (قبض، پیٹ کی خشکی؛ عربی میں: خشکی، سوکھا پن)۔