و ط نw-ṭ-n
(ض) وَطَنَ يَطِنُ وَطْنًا (اصلی: وَطَنَ يَوْطِنُ): کسی جگہ ٹھہرنا اور اسے ٹھکانا بنانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
مَوْطِنٌ ج مَوَاطِنُ (اسم الظرف): ٹھہرنے کی جگہ (اردو میں «موطن» اسی معنی میں)؛ میدانِ جنگ کا مقام۔ قرآن میں صرف ایک بار، اور وہ غزوۂ حنین کے سیاق میں: ﴿لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ﴾ (التوبۃ ۹:۲۵) — نوٹ: «مَوَاطِنَ» صیغۂ منتہی الجموع ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے، اسی لیے فتحہ کے ساتھ مجرور ہے۔
اردو میں اس مادے سے: وطن، وطنی۔