Rizwan Zubair

مادّہ و ق ی

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 9 · English

و ق یw-q-y

(ض) وَقٰى يَقِيْ وِقَايَةً (اصلی: وَقَيَ يَوْقِيُ): کسی کو تکلیف یا نقصان سے بچانا؛ قِ (فعلِ امر): تو بچا۔ ﴿فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْيَوْمِ﴾ (الدھر ۷۶:۱۱)؛ ﴿قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا﴾ (التحریم ۶۶:۶)؛ ﴿وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (البقرۃ ۲:۲۰۱)

وَاقٍ (اصلاً وَاقِيٌ، اسم الفاعل): بچانے والا۔ ﴿وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ﴾ (الرعد ۱۳:۳۴)

(افتعال) اِتَّقٰى يَتَّقِيْ اِتِّقَآءً (اصلاً اِوْتَقٰى): (اہتمام سے) نقصان یا تکلیف سے بچنا؛ اللہ کی ناراضگی سے بچنا؛ مُتَّقٍ (اصلاً مُتَّقِيٌ، اسم الفاعل): اللہ کی ناراضگی سے بچنے والا (اردو میں «متقی» اسی معنی میں)؛ تُقٰةٌ (مصدر): بچاؤ، تقویٰ۔ ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهِۦ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۰۲)؛ ﴿هُدًي لِّلْمُتَّقِيْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۲)

تَقْوٰى (اصلاً وَقْوٰى، اسمِ ذات): پرہیزگاری، اللہ کی ناراضگی سے بچنے کی کیفیت (اردو میں «تقویٰ» اسی معنی میں)۔ ﴿وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ﴾ (الاعراف ۷:۲۶)

تَقِيٌّ (اصلاً وَقِيٌّ، فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): ہمیشہ اور ہر حال میں تقویٰ اختیار کرنے والا؛ اَتْقٰى (اسم التفضیل): سب سے بڑھ کر پرہیزگار۔ ﴿وَكَانَ تَقِيًّا﴾ (مریم ۱۹:۱۳)؛ ﴿اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ﴾ (الحجرات ۴۹:۱۳)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ