(س) وَكِئَ يَوْكَاُ وَكْئًا — ثلاثی مجرد میں عموماً واو کو تاء سے بدل کر تَكِئَ يَتْكَاُ تَكْئًا بولتے ہیں: کسی چیز کا سہارا لینا (اردو میں «تکیہ»: سرہانے کا تکیہ؛ بھروسا؛ عربی میں: ٹیک لگانے کا سہارا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(تفعّل) تَوَكَّاَ يَتَوَكَّاُ تَوَكُّؤًا: (بتکلف) سہارا لینا، ٹیکنا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿قَالَ هِيَ عَصَايَ اَتَوَكَّؤُا عَلَيْهَا﴾ (طٰہٰ ۲۰:۱۸)
(افتعال) اِتَّكَاَ يَتَّكِئُ اِتِّكَآءً (اصلاً اِوْتَكَاَ): اہتمام سے ٹیک لگا کر بیٹھنا؛ اس میں آرام و آسائش کا مفہوم شامل ہے؛ مُتَّكِئٌ ج مُتَّكِـُٔوْنَ (اسم الفاعل): آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھنے والا؛ مُتَّكَاٌ (اسم المفعول بطور ظرف): ٹیک لگا کر بیٹھنے کی جگہ، پر تکلف مجلس۔ ﴿مُتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَي الْاَرَآئِكِ﴾ (الکھف ۱۸:۳۱)؛ ﴿وَاَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً﴾ (یوسف ۱۲:۳۱)؛ ﴿وَلِبُيُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِـُٔوْنَ﴾ (الزخرف ۴۳:۳۴)