Rizwan Zubair

مادّہ و ق ف

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 3 · English

و ق فw-q-f

(ض) وَقَفَ يَقِفُ وَقْفًا (اصلی: وَقَفَ يَوْقِفُ): ٹھہرانا، روکنا (اردو میں «وقف»: مذہبی وقف؛ مختص کرنا؛ عربی میں: ٹھہرانا، روکنا)؛ (لازم) ٹھہر جانا؛ قِفْ (فعلِ امر): تو ٹھہرا، تو روک۔ ﴿وَقِفُوْهُمْ اِنَّهُمْ مَّسْـُٔوْلُوْنَ﴾ (الصافات ۳۷:۲۴)؛ ﴿وَلَوْ تَرٰٓى اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ﴾ (الانعام ۶:۲۷)

مَوْقُوْفٌ ج مَوْقُوْفُوْنَ (اسم المفعول): ٹھہرایا ہوا، روکا ہوا (اردو میں «موقوف»: منحصر؛ بند یا معطل شدہ؛ عربی میں: روکا ہوا، ٹھہرایا ہوا)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ (سبا ۳۴:۳۱)

(تفعّل) تَوَقَّفَ يَتَوَقَّفُ تَوَقُّفًا: ٹھہر جانا، رک جانا؛ (کسی کام میں) دیر کرنا (اردو میں «توقف» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

اردو میں اس مادے سے: واقف، واقفیت (آگاہ، جاننے والا، شناسا؛ عربی میں: ٹھہرنے والا، کھڑا ہونے والا)؛ توقف، موقف۔

«قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف» (ضربِ کلیم)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ