(ض) وَقَتَ يَقِتُ وَقْتًا (اصلی: وَقَتَ يَوْقِتُ): (کسی کام کا) وقت مقرر کرنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَقْتٌ (اسمِ ذات): وقت، مقررہ گھڑی (اردو میں «وقت، اوقات، وقتی» اسی معنی میں)۔ ﴿اِلٰى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ﴾ (الحجر ۱۵:۳۸)
مَوْقُوْتٌ (اسم المفعول): وقت کا پابند، مقرر کیا ہوا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا﴾ (النساء ۴:۱۰۳)
مِيْقَاتٌ ج مَوَاقِيْتُ (اصلاً مِوْقَاتٌ، مِفْعَالٌ کے وزن پر اسم الآلہ): کسی کام کی حد پہچاننے کا ذریعہ: (۱) طے شدہ وقت (۲) نشان زدہ جگہ۔ ﴿قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۹)؛ ﴿اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا﴾ (النبا ۷۸:۱۷)
(تفعیل) وَقَّتَ يُوَقِّتُ تَوْقِيْتًا: وقت مقرر کر دینا؛ مجہول اُقِّتَتْ (اصلاً وُقِّتَتْ، واو ہمزہ سے بدلی): جن کا وقت مقرر کیا گیا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتْ﴾ (المرسلٰت ۷۷:۱۱)