(ض) وَكَلَ يَكِلُ وَكْلًا (اصلی: وَكَلَ يَوْكِلُ): کام کسی کے سپرد کرنا، کسی کو سونپنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَكِيْلٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر بمعنی اسم المفعول): جسے (کام) سونپ دیا گیا ہو، کارساز، نگہبان (اردو میں «وکیل»: قانونی وکیل، ایڈووکیٹ؛ عربی میں: کارساز، جسے کام سونپا جائے)۔ ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۷۳)؛ ﴿وَمَآ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ﴾ (الانعام ۶:۱۰۷)
(تفعیل) وَكَّلَ يُوَكِّلُ تَوْكِيْلًا: کسی کو (کسی کام پر) نگہبان اور کارندہ مقرر کرنا (اردو میں «موکل» اسی معنی میں)۔ ﴿قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ﴾ (السجدۃ ۳۲:۱۱)؛ ﴿فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِيْنَ﴾ (الانعام ۶:۸۹)
(تفعّل) تَوَكَّلَ يَتَوَكَّلُ تَوَكُّلًا: قرآن میں «عَلٰى» کے صلہ کے ساتھ: کسی پر بھروسہ کرنا (اردو میں «توکل، متوکل» اسی معنی میں)؛ مُتَوَكِّلٌ ج مُتَوَكِّلُوْنَ (اسم الفاعل): بھروسہ کرنے والا۔ ﴿وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهُۥ﴾ (الطلاق ۶۵:۳)؛ ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۵۹) — نوٹ: قرآن میں توكّل اور اس کے مشتقات کا اصطلاحی مطلب اللہ پر بھروسہ کرنا ہے، خواہ «عَلَي اللّٰهِ» مذکور ہو یا نہ ہو؛ جیسے «انفاق» کا اصطلاحی مطلب اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے، خواہ «فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» مذکور ہو یا نہ ہو۔
اردو میں اس مادے سے: وکالت (وکیلوں کا پیشہ، مقدمہ لڑنا؛ عربی میں: نیابت، کام کی سپردگی)۔