و ا دw-ʾ-d
(ض) وَأَدَ يَئِدُ وَأْدًا: زندہ درگور کرنا، خصوصًا بچی کو زندہ دفن کر دینا — یہ اہلِ جاہلیت کی ایک ہولناک رسم تھی۔ مَوْءُوْدَة (اسمِ مفعول مؤنث): وہ بچی جو زندہ دفن کی گئی ہو۔ قرآن میں صرف ایک بار، اور وہ قیامت کے مناظر میں: ﴿وَإِذَا الْمَوْءُوْدَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ﴾ (التکویر ۸۱:۸-۹) — نوٹ: سوال قاتل سے نہیں، مقتول سے کیا جا رہا ہے، اور یہی اس آیت کی سب سے بڑی کاٹ ہے۔