ت و رt-w-r
— تَارَة ج تَارَات وَتِيَر: ایک بار، ایک مرتبہ؛ «تَارَةً … وَتَارَةً» یعنی کبھی … اور کبھی۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ اصل مفہوم باری باری آنے کا ہے۔ قرآن میں دو بار: ﴿مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرٰى﴾ (طٰہٰ ۲۰:۵۵)؛ ﴿اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۶۹)