س ح لs-ḥ-l
(ف) سَحَلَ يَسْحَلُ سَحْلًا: چھیلنا، گھس کر باریک کرنا؛ اسی سے مِسْحَلٌ (ریتی)۔
سَاحِلٌ (اسم الفاعل): سمندر کا کنارہ — اہلِ لغت کہتے ہیں کہ نام اسمِ فاعل کے وزن پر ہے مگر معنی اسمِ مفعول کا ہے (مَسْحُوْل)، کیونکہ پانی کنارے کو چھیلتا رہتا ہے (اردو میں «ساحل» اسی معنی میں)۔ ﴿فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۳۹)
قرآن میں صرف ایک بار آیا ہے۔