(ف) سَخَرَ يَسْخَرُ سُخْرِيًّا: کسی سے بیگار لینا، بلا معاوضہ کام لینا۔
(س) سَخِرَ يَسْخَرُ سَخَرًا وَسُخْرِيَّةً: کسی سے مذاق کرنا، ٹھٹھا کرنا۔ ﴿فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ﴾ (التوبۃ ۹:۷۹)؛ ﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ﴾ (الحجرات ۴۹:۱۱)
سُخْرِيٌّ (اسم ذات): بیگار، ماتحت بنا کر کام لینا۔ ﴿لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا﴾ (الزخرف ۴۳:۳۲)
تفعیل سَخَّرَ يُسَخِّرُ تَسْخِيْرًا: کثرت سے کام لینا، تابع اور مطیع کر دینا (اردو میں «تسخیر» اسی معنی میں)۔ ﴿وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ﴾ (ابراھیم ۱۴:۳۳)
مُسَخَّرٌ (اسم المفعول): تابع کیا ہوا (اردو میں «مسخر» اسی معنی میں)۔ ﴿وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۶۴)
اردو میں اس مادے سے: تمسخر؛ مسخرہ (مسخرا پن کرنے والا، دل لگی باز؛ عربی میں: مذاق کا نشانہ، ٹھٹھا)۔
«کمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوری» (بالِ جبریل)
«پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی ہے مسخر» (ضربِ کلیم)