Rizwan Zubair

مادّہ س ب ق

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 8 · English

س ب قs-b-q

(ض) سَبَقَ يَسْبِقُ سَبْقًا: تیز چلنا، آگے نکلنا (اردو میں «سبقت» اسی معنی میں؛ «سبق»: درس، پڑھائی کا حصہ؛ عربی میں: آگے نکل جانا، پہل)؛ (۱) کسی بات کا آگے نکلنا، یعنی طے ہو جانا، فیصلہ ہو جانا۔ ﴿وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ﴾ (یونس ۱۰:۱۹) (۲) کسی کی پکڑ سے آگے نکلنا، یعنی بھاگ نکلنا۔ ﴿اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ اَنْ يَّسْبِقُوْنَا﴾ (العنکبوت ۲۹:۴) (۳) کسی کام میں آگے نکلنا، یعنی پہل کرنا، سبقت کرنا (۴) کسی کی بات سے آگے نکلنا، یعنی حکم عدولی کرنا، نافرمانی کرنا۔ ﴿لَا يَسْبِقُوْنَهُۥ بِالْقَوْلِ﴾ (الانبیاء ۲۱:۲۷)

سَابِقٌ (اسم الفاعل): آگے نکلنے والا (اردو میں «سابق، سابقہ»: پہلا، گزشتہ، پچھلا؛ عربی میں: آگے نکل جانے والا)۔ ﴿وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۱۰)

مَسْبُوْقٌ (اسم المفعول): جس کی گرفت سے نکلا جائے، یعنی بے بس کیا ہوا، عاجز کیا ہوا۔ ﴿وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۶۰)

مفاعلہ سَابَقَ يُسَابِقُ مُسَابَقَةً: دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرنا، لپکنا (اردو میں «مسابقت» اسی معنی میں)؛ سَابِقْ (فعل امر): تو آگے نکل، تو لپک۔ ﴿سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ﴾ (الحدید ۵۷:۲۱)

افتعال اِسْتَبَقَ يَسْتَبِقُ اِسْتِبَاقًا: اہتمام سے آگے نکلنا، یعنی آگے نکلنے کا مقابلہ کرنا، دوڑ لگانا۔ ﴿وَاسْتَبَقَا الْبَابَ﴾ (یوسف ۱۲:۲۵)؛ ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۴۸)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ