(ض) قَسَمَ يَقْسِمُ قَسْمًا: کسی چیز کے حصے کر کے بانٹ دینا، تقسیم کرنا۔ ﴿نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ﴾ (الزخرف ۴۳:۳۲)
مَقْسُوْمٌ (اسم المفعول): بانٹا ہوا۔ ﴿لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ﴾ (الحجر ۱۵:۴۴)
قِسْمَةٌ (اسمِ ذات): بانٹ، تقسیم (اردو میں «قسمت»: نصیب، مقدر؛ عربی میں: بانٹ، حصہ)۔ ﴿تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى﴾ (النجم ۵۳:۲۲)
قَسَمٌ (اسمِ ذات): اصلاً وہ حلف جو اولیائے مقتول پر بانٹا جاتا تھا (اردو میں «قَسَم» اسی معنی میں)؛ پھر ہر حلف اور قسم کے لیے آنے لگا۔ ﴿وَاِنَّهُۥ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۷۶)
(افعال) اَقْسَمَ يُقْسِمُ اِقْسَامًا: حلف اٹھانا، قسم کھانا۔ ﴿لَآ اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۱)
(تفعیل) قَسَّمَ يُقَسِّمُ تَقْسِيْمًا: بتدریج بانٹنا (اردو میں «تقسیم» اسی معنی میں)۔ مُقَسِّمٌ ج مُقَسِّمَاتٌ (اسم الفاعل): بانٹنے والا۔ ﴿فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا﴾ (الذّٰریٰت ۵۱:۴)
(مفاعلہ) قَاسَمَ يُقَاسِمُ مُقَاسَمَةً: کسی کے سامنے قسم کھانا۔ ﴿وَقَاسَمَهُمَآ اِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيْنَ﴾ (الاعراف ۷:۲۱)
(تفاعل) تَقَاسَمَ يَتَقَاسَمُ تَقَاسُمًا: آپس میں ایک دوسرے سے قسم لینا۔ ﴿قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ﴾ (النمل ۲۷:۴۹)
(افتعال) اِقْتَسَمَ يَقْتَسِمُ اِقْتِسَامًا: اہتمام سے بانٹنا۔ مُقْتَسِمٌ ج مُقْتَسِمِيْنَ (اسم الفاعل): بانٹنے والا۔ ﴿كَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَي الْمُقْتَسِمِيْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۹۰)
(استفعال) اِسْتَقْسَمَ يَسْتَقْسِمُ اِسْتِقْسَامًا: اپنا حصہ یا قسمت معلوم کرنا چاہنا۔ ﴿وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ﴾ (المائدۃ ۵:۳)
اردو میں اس مادے سے: قِسم (نوع، طرح؛ عربی میں: حصہ، بانٹا ہوا ٹکڑا)۔