Rizwan Zubair

مادّہ ق ر ء

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 6 · English

ق ر ءq-r-ʾ

(ف) قَرَاَ يَقْرَاُ قِرَآءَةً وَقُرْاٰنًا: دو چیزوں کو اکٹھا کرنا، جمع کرنا (اردو میں «قرأت» اسی معنی میں)؛ اسی بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے: (۱) پڑھنا (پڑھنے والا حروف و الفاظ کو اکٹھا کرتا ہے) (۲) پڑھ کر سنانا؛ اس معنی میں «عَلٰى» کا صلہ آتا ہے (۳) مدت گزارنا (کسی مقررہ وقت کے آغاز و اختتام کو اکٹھا کرنے سے ایک مدت وجود میں آتی ہے)۔ اِقْرَاْ (فعلِ امر): تو پڑھ۔ ﴿اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ﴾ (العلق ۹۶:۱)؛ ﴿فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ﴾ (النحل ۱۶:۹۸)

قُرْاٰنٌ (مصدر، اسمِ ذات بھی): پڑھی جانے والی چیز، پیغام، کتاب (اردو میں «قرآن» اسی معنی میں)؛ اصطلاحًا اب یہ لفظ صرف آخری وحی کے لیے مخصوص ہے، اس لیے کسی اور کتاب کے لیے اس کا استعمال درست نہیں مانا جاتا۔ ﴿اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُۥ وَقُرْاٰنَهُۥ﴾ (القیٰمۃ ۷۵:۱۷)؛ ﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۵)

قُرْءٌ ج قُرُوْٓءٌ (اسمِ ذات): مدت؛ قرآن مجید میں عورت کے ایک طہر اور حیض کی جامع مدت کے لیے آیا ہے (اہلِ لغت اسے اضداد میں شمار کرتے ہیں: طہر بھی اور حیض بھی)۔ ﴿وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ﴾ (البقرۃ ۲:۲۲۸)

(افعال) اَقْرَاَ يُقْرِئُ اِقْرَآءً: کسی کو پڑھانا۔ ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰٓى﴾ (الاعلٰی ۸۷:۶)

اردو میں اس مادے سے: قاری۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ