(ک) قَرُبَ يَقْرُبُ قُرْبًا: قریب ہونا (اردو میں «قرب، قربت» اسی معنی میں)۔ (س) قَرِبَ يَقْرَبُ قُرْبَانًا: کسی کے نزدیک جانا؛ نفی و نہی کے ساتھ: پاس بھی نہ پھٹکنا۔ ﴿وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾ (البقرۃ ۲:۳۵)
قَرِيْبٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): نزدیک (اردو میں «قریب» اسی معنی میں)۔ ﴿فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۶)
قُرْبَةٌ ج قُرُبٰتٌ: قربت کا ذریعہ۔ ﴿اَلَآ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ﴾ (التوبۃ ۹:۹۹)؛ مَقْرَبَةٌ: قرابت، رشتہ داری۔ ﴿يَّتِيْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ﴾ (البلد ۹۰:۱۵)؛ قُرْبَانٌ: وہ چیز جس کے ذریعے قرب حاصل کیا جائے، قربانی (اردو میں «قربان، قربانی» اسی معنی میں)۔
(تفعیل) قَرَّبَ يُقَرِّبُ تَقْرِيْبًا: کسی کو کسی کے نزدیک کرنا (اردو میں «تقریب»: جشن، محفل، فنکشن؛ عربی میں: قریب لانا)؛ جس کے نزدیک کریں اس پر «اِلٰى» کا صلہ آتا ہے؛ نیز قربانی پیش کرنا۔ ﴿اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا﴾ (المائدۃ ۵:۲۷)؛ مُقَرَّبٌ (اسم المفعول): قریب کیا ہوا (اردو میں «مقرب» اسی معنی میں)۔ ﴿اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَ﴾ (الواقعۃ ۵۶:۱۱)
(افتعال) اِقْتَرَبَ يَقْتَرِبُ اِقْتِرَابًا: اہتمام سے قریب ہونا؛ جس کے قریب ہوں اس پر «لِ» کا صلہ آتا ہے۔ ﴿اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ﴾ (القمر ۵۴:۱)؛ ﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ﴾ (العلق ۹۶:۱۹)
اردو میں اس مادے سے: قرابت، اقربا۔
«تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے» (دیوانِ غالب)