(ن) نَفَسَ يَنْفُسُ نَفْسًا: سانس لینا؛ (س) نَفِسَ يَنْفَسُ نَفَاسَةً: بخل کرنا، حسد کرنا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
نَفْسٌ ج اَنْفُسٌ وَنُفُوْسٌ (اسمِ ذات): جان، ذات، خود (اردو میں «نفس، نفسانی، نفسیات» اسی معنی میں)؛ قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ ﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۸۵)؛ ﴿وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ﴾ (التکویر ۸۱:۷)
نَفِيْسٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر صفت): قیمتی (اردو میں «نفیس، نفاست» اسی معنی میں)۔ (یہ لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(تفعّل) تَنَفَّسَ يَتَنَفَّسُ تَنَفُّسًا: سانس لینا (اردو میں «تنفس» اسی معنی میں)؛ صبح کے لیے یہ لفظ لانا نہایت لطیف استعارہ ہے، گویا صبح سانس لے رہی ہو۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ﴾ (التکویر ۸۱:۱۸)
(تفاعل) تَنَافَسَ يَتَنَافَسُ تَنَافُسًا: کسی نفیس چیز میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا؛ مُتَنَافِسٌ ج مُتَنَافِسُوْنَ (اسم الفاعل)۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَفِيْ ذٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنٰفِسُوْنَ﴾ (المطففین ۸۳:۲۶)
«جلا سکتی ہے شمعِ کشتہ کو موجِ نفس ان کی» (بانگِ درا)