(ض) نَفَرَ يَنْفِرُ نَفْرًا وَنُفُوْرًا: (۱) کسی اہم کام کے لیے نکلنا، جیسے سفر یا جنگ کے لیے (۲) «نَفَرَ عَنْهُ»: کسی چیز سے دور بھاگنا، بدکنا، نفرت کرنا؛ اِنْفِرْ (فعلِ امر): تو نکل۔ ﴿اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا﴾ (التوبۃ ۹:۴۱)؛ ﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ﴾ (التوبۃ ۹:۱۲۲)
نُفُوْرٌ (مصدر): انتہائی بیزاری، نفرت۔ ﴿وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا﴾ (الاسراء ۱۷:۴۱)
نَفَرٌ (اسمِ جمع): کسی کام کے لیے نکلنے والی چھوٹی جماعت (اردو میں «نفر»: ایک فرد، ایک شخص؛ عربی میں: چھوٹی جماعت، ٹولی)؛ پھر ہر چھوٹی جماعت کے لیے عام۔ ﴿قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ﴾ (الجن ۷۲:۱)
نَفِيْرٌ (فَعِيْلٌ کے وزن پر): (نکلنے والا) جتھا، لشکر (اردو میں «نفیر»: بگل، اعلانِ جنگ کا نقارہ؛ عربی میں: نکلنے والا جتھا)؛ افرادی قوت۔ ﴿وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا﴾ (الاسراء ۱۷:۶)
(تفعّل) تَنَفَّرَ يَتَنَفَّرُ تَنَفُّرًا: (کسی چیز سے) نفرت کرنا، بیزار ہو کر دور ہونا (اردو میں «متنفر» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(استفعال) اِسْتَنْفَرَ يَسْتَنْفِرُ اِسْتِنْفَارًا: (ڈر کر) بھاگ کھڑا ہونا، بدکنا؛ مُسْتَنْفِرٌ (اسم الفاعل): بدکنے والا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ﴾ (المدثر ۷۴:۵۰)
اردو میں اس مادے سے: نفرت، متنفر۔