Rizwan Zubair

مادّہ م ل ک

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 8 · English

م ل کm-l-k

(ض) مَلَكَ يَمْلِكُ مِلْكًا وَمُلْكًا: مالک ہونا، قبضہ و اختیار رکھنا۔ ﴿اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ﴾ (النساء ۴:۳)؛ ﴿قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا﴾ (الاعراف ۷:۱۸۸)

مُلْكٌ (اسمِ ذات): بادشاہی، اقتدار (اردو میں «ملک (وطن)»: وطن، سرزمین، ریاست؛ عربی میں: بادشاہی، اقتدار)؛ مَالِكٌ (اسم الفاعل): مالک (اردو میں «مالک» اسی معنی میں)۔ ﴿قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ﴾ (اٰل عمران ۳:۲۶)؛ ﴿مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ﴾ (الفاتحۃ ۱:۴)

مَلِكٌ ج مُلُوْكٌ (صفت): بادشاہ (اردو میں «ملک (بادشاہ)، ملکہ» اسی معنی میں)۔ ﴿مَلِكِ النَّاسِ﴾ (الناس ۱۱۴:۲)؛ ﴿اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا﴾ (النمل ۲۷:۳۴)

مَلَكٌ ج مَلٰٓئِكَةٌ (اسمِ ذات): فرشتہ (اردو میں «ملائکہ» اسی معنی میں)؛ اہلِ لغت میں اس کے مادے پر اختلاف ہے (بعض نے ا ل ک یعنی پیغام رسانی سے مانا)۔ ﴿وَالْمَلَكُ عَلٰٓى اَرْجَآئِهَا﴾ (الحاقۃ ۶۹:۱۷)

مَلَكُوْتٌ (مبالغہ): کامل بادشاہت؛ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے۔ ﴿فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهِۦ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ﴾ (یٰسٓ ۳۶:۸۳)

اردو میں اس مادے سے: ملکیت، مملکت، مملوک۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ