(ن) مَلَّ يَمُلُّ مَلًّا (اصلی: مَلَلَ يَمْلُلُ): کسی کو کوئی چیز لاحق ہونا (جیسے ملال)؛ نیز اکتا جانا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
مِلَّةٌ ج مِلَلٌ (اسمِ ذات): وہ طریقہ جو کسی کو لاحق اور لازم ہو جائے (اردو میں «ملت»: قوم، امت؛ عربی میں: دین، مذہبی طریقہ)؛ پھر (۱) دین، مجموعۂ عقائد (۲) اس پر کاربند گروہ کے لیے۔ ﴿بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهِۦمَ حَنِيْفًا﴾ (البقرۃ ۲:۱۳۵)
(افعال) اَمَلَّ يُمِلُّ اِمْلَالًا (اصلی: اَمْلَلَ يُمْلِلُ): لکھوانا، املا کروانا۔ ﴿وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ﴾ (البقرۃ ۲:۲۸۲)
اردو میں اس مادے سے: ملال (رنج، افسوس؛ عربی میں: اکتاہٹ، بیزاری)۔
«نہ حشر و نشر کا قائل نہ کیش و ملت کا» (دیوانِ غالب)