ل ز بl-z-b
(ن) لَزَبَ يَلْزُبُ لُزُوْبًا: چپکنا، جم جانا، سخت ہو جانا۔ لَازِب (اسمِ فاعل): چپکنے والا، لیس دار۔ اہلِ لغت کہتے ہیں کہ «ضَرْبَةُ لَازِبٍ» عربوں کا محاورہ ہے کسی لازمی و ناگزیر بات کے لیے۔ قرآن میں صرف ایک بار، اور وہ خلقتِ انسان کے بیان میں: ﴿إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِّنْ طِيْنٍ لَّازِبٍ﴾ (الصافات ۳۷:۱۱) — یعنی لیس دار چپکتی ہوئی مٹی سے۔