(س) لَزِمَ يَلْزَمُ لُزُوْمًا: کسی سے چمٹ جانا، لازم ہو جانا، جدا نہ ہونا (اردو میں «لازم، لازمی، لزوم» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
لِزَامٌ (مصدر بابِ مفاعلہ، صفت کے معنی میں): لازم، چمٹ جانے والا (عذاب)۔ ﴿فَسَوْفَ يَكُوْنُ لِزَامًا﴾ (الفرقان ۲۵:۷۷)
(مفاعلہ) لَازَمَ يُلَازِمُ مُلَازَمَةً: کسی کے ساتھ لگے رہنا، ہمیشہ ساتھ رہنا، کسی کام کو مستقل اختیار کیے رکھنا (اردو میں «ملازم، ملازمت»: نوکر، نوکری؛ عربی میں: ساتھ چمٹے رہنا، مستقل وابستگی)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افعال) اَلْزَمَ يُلْزِمُ اِلْزَامًا: کسی کو کسی چیز سے چمٹا دینا، لازم کر دینا (اردو میں «الزام»: تہمت، جرم کا دعویٰ؛ عربی میں: لازم کر دینا، پابند کرنا)۔ ﴿اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ﴾ (ھود ۱۱:۲۸)؛ ﴿وَكُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهُۥ فِيْ عُنُقِهِۦ﴾ (الاسراء ۱۷:۱۳)؛ ﴿وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى﴾ (الفتح ۴۸:۲۶)
اردو میں اس مادے سے: ملزم (جس پر جرم کا دعویٰ ہو؛ عربی میں: جسے پابند کیا گیا ہو)۔