Rizwan Zubair

مادّہ ل ق ی

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 10 · English

ل ق یl-q-y

(س) لَقِيَ يَلْقٰى لِقَاءً وَلُقْيًا: کسی کے سامنے آنا، ملنا؛ (کسی چیز کو) پا لینا۔ ﴿وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا﴾ (البقرۃ ۲:۱۴)؛ ﴿لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا﴾ (الکھف ۱۸:۶۲)؛ ﴿فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾ (مریم ۱۹:۵۹)

(افعال) اَلْقٰى يُلْقِيْ اِلْقَاءً: کسی کے سامنے ڈالنا، پھینکنا (اردو میں «القا»: دل میں ڈالی گئی بات، الہام؛ عربی میں: ڈالنا، پھینکنا)؛ مُلْقُوْنَ (مُلْقٍ کی جمع، اسم الفاعل): ڈالنے والے۔ ﴿فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ﴾ (الاعراف ۷:۱۰۷)؛ ﴿اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴾ (یونس ۱۰:۸۰)

(تفعیل) لَقّٰى يُلَقِّيْ تَلْقِيَةً: کسی کو کوئی چیز عطا کرنا، سامنے کر دینا۔ ﴿وَمَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا﴾ (فصلت ۴۱:۳۵)

(مفاعلہ) لَاقٰى يُلَاقِيْ مُلَاقَاةً وَلِقَاءً: ایک دوسرے کے سامنے آنا، ملاقات کرنا (اردو میں «ملاقات» اسی معنی میں)؛ مُلٰقٍ (اسم الفاعل): ملنے والا۔ ﴿الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ﴾ (البقرۃ ۲:۴۶)

(تفعّل) تَلَقّٰى يَتَلَقّٰى تَلَقِّيًا (اصلی: تَلَقَّيَ يَتَلَقَّيُ): (۱) اہتمام سے کسی کا استقبال کرنا (۲) کسی سے براہِ راست کچھ حاصل کرنا، سیکھنا۔ ﴿فَتَلَقّٰٓى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهِۦ كَلِمٰتٍ﴾ (البقرۃ ۲:۳۷)

(افتعال) اِلْتَقٰى يَلْتَقِيْ اِلْتِقَاءً: اہتمام سے باہم ملنا، آمنے سامنے ہونا۔ ﴿يَوْمَ الْتَقَي الْجَمْعٰنِ﴾ (اٰل عمران ۳:۱۵۵)

تِلْقَاءَ (تِفْعَال کے وزن پر، بطور ظرف): سامنے، جانب؛ اہلِ علم کہتے ہیں کہ اس وزن پر مصدر صرف دو ہیں: تِبْيَان اور تِلْقَاء۔ ﴿وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ﴾ (الاعراف ۷:۴۷)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ