ک ا سk-ʾ-s
— كَأْس ج كُؤُوْس وَكِئَاس: بھرا ہوا پیالہ؛ اہلِ لغت کی تصریح ہے کہ خالی پیالے کو كَأْس نہیں کہا جاتا، اسے قَدَح کہتے ہیں — یعنی لفظ میں بھرا ہونا شامل ہے۔ اسی لیے قرآن میں یہ ہمیشہ شرابِ جنت کے سیاق میں آیا۔ قرآن میں چھ بار: ﴿يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ﴾ (الصافات ۳۷:۴۵)، ﴿وَكَأْسًا دِهَاقًا﴾ (النبا ۷۸:۳۴)، ﴿يُسْقَوْنَ فِيْهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيْلًا﴾ (الانسان ۷۶:۱۷)۔