(ک) جَمُلَ يَجْمُلُ جَمَالًا: خوبصورت ہونا (اردو میں «جمال» اسی معنی میں)۔ ﴿وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ﴾ (النحل ۱۶:۶)
جَمِيْل (فَعِيْل): حسین (اردو میں «جمیل» اسی معنی میں)؛ اور «صَبْرٌ جَمِيْلٌ» یعنی وہ صبر جس میں شکوہ نہ ہو۔ ﴿فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ﴾ (یوسف ۱۲:۱۸)
جُمْلَة: مجموعہ، یکجا (اردو میں «جملہ»: کلام کا ایک فقرہ؛ عربی میں: مجموعہ، کل، یکجا)۔ ﴿جُمْلَةً وَّاحِدَةً﴾ (الفرقان ۲۵:۳۲)
جَمَل ج جِمَالَات: اونٹ۔ ﴿حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ (الاعراف ۷:۴۰)؛ ﴿كَاَنَّهُۥ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ﴾ (المرسلٰت ۷۷:۳۳)
قرآن میں یہ مادہ ۱۱ بار آیا ہے۔
افعال اَجْمَلَ يُجْمِلُ اِجْمَالًا: تفصیل کے بغیر مختصر طور پر بیان کرنا، خلاصہ کرنا (اردو میں «اجمال، اجمالی، مجمل» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: اجمالی۔