Rizwan Zubair

مادّہ ج م ع

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 10 · English

ج م عj-m-ʿ

(ف) جَمَعَ يَجْمَعُ جَمْعًا: متفرق چیزوں کو ملا دینا، اکٹھا کرنا، جمع کرنا (اردو میں «جمع» اسی معنی میں)۔ ﴿الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَهُۥ﴾ (الھمزۃ ۱۰۴:۲)

جَمْعٌ (اسم ذات): جمع کی ہوئی چیز، جماعت۔ ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ﴾ (القمر ۵۴:۴۵)

جَامِعٌ (اسم الفاعل): جمع کرنے والا (اردو میں «جامع»: ہمہ گیر؛ بڑی مسجد؛ عربی میں: جمع کرنے والا)۔ ﴿رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ﴾ (اٰل عمران ۳:۹)

مَجْمُوْعٌ (اسم المفعول): جمع کیا ہوا، جمع کیا جانے والا (اردو میں «مجموعہ» اسی معنی میں)۔ ﴿ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ﴾ (ھود ۱۱:۱۰۳)

مَجْمَعٌ (اسم الظرف): جمع ہونے کی جگہ (اردو میں «مجمع»: لوگوں کا ہجوم؛ عربی میں: جمع ہونے کی جگہ)۔ ﴿حَتّٰٓى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ﴾ (الکھف ۱۸:۶۰)

جُمُعَة: اکٹھا ہونے کا دن، جمعہ کا دن (اردو میں «جمعہ» اسی معنی میں)۔ ﴿اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ﴾ (الجمعۃ ۶۲:۹)

جَمِيْعٌ (فَعِيْل کے وزن پر صفت): کل کے کل، سب کے سب۔ ﴿اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا﴾ (یونس ۱۰:۴)

اَجْمَعُ (افعل کے وزن پر صفت): سب، تمام۔ ﴿فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ﴾ (الحجر ۱۵:۳۰)

افعال اَجْمَعَ يُجْمِعُ اِجْمَاعًا: کسی بات یا کام پر جمع ہونا، اتفاق کرنا، پختہ ارادہ کرنا (اردو میں «اجماع» اسی معنی میں)۔ ﴿فَاَجْمِعُوْٓا اَمْرَكُمْ﴾ (یونس ۱۰:۷۱)

افتعال اِجْتَمَعَ يَجْتَمِعُ اِجْتِمَاعًا: لوگوں یا چیزوں کا جمع ہونا (اردو میں «اجتماع» اسی معنی میں)۔ ﴿لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ﴾ (بنی اسرائیل ۱۷:۸۸)

مُجْتَمِعٌ (اسم الفاعل): جمع ہونے والا۔

اردو میں اس مادے سے: جماعت۔

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ