ح و شḥ-w-sh
— حَاشَ: کلمۂ تنزیہ، بمعنی «پناہ بخدا، ہرگز نہیں»؛ نحویوں کے ہاں اس کی حیثیت میں اختلاف ہے: بعض نے اسے فعل کہا اور بعض نے حرفِ جر (جیسے «حاشا» استثنائیہ)۔ اصل مفہوم کنارے ہٹ جانے اور دور رہنے کا ہے۔ قرآن میں دو بار، اور دونوں سورۂ یوسف میں: ﴿حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا﴾ (یوسف ۱۲:۳۱)؛ ﴿حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْٓءٍ﴾ (یوسف ۱۲:۵۱)