(س) غَشِيَ يَغْشٰى غَشَاوَةً (اصلی: غَشِوَ يَغْشَوُ): کسی چیز کو ڈھانپ لینا، چھپا لینا، اس پر چھا جانا۔ ﴿وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى﴾ (اللیل ۹۲:۱)۔ نوٹ: یہ فعل واوی (غ ش و) اور یائی (غ ش ی) دونوں مادوں سے ہم شکل اور ہم معنی آتا ہے؛ باب استفعال (اِسْتَغْشٰى: کپڑا اوڑھ لینا، لپیٹ لینا) بھی دونوں سے یکساں ہے، البتہ بعض اہلِ لغت (مثلًا اقرب الموارد) کے نزدیک باب افعال، تفعیل اور تفعّل (اَغْشٰى، غَشّٰى، تَغَشّٰى) صرف یائی مادہ سے آتے ہیں۔
غِشَاوَةٌ (مصدر بمعنی اسم الفاعل): وہ چیز جو کسی شے کو ڈھانپ دے، پردہ؛ یہ لفظ حسی سے زیادہ معنوی مفہوم میں آتا ہے، خصوصًا آنکھ یا دل پر پردہ پڑنے کے معنی میں؛ اس معنی میں غین پر تینوں حرکات (غَشَاوَة، غِشَاوَة، غُشَاوَة) درست ہیں۔ ﴿وَعَلٰٓى اَبْصَارِهِمْ غِشٰوَةٌ﴾ (البقرۃ ۲:۷)
غَاشٍ ج غَوَاشٍ، مؤنث غَاشِيَةٌ (اسم الفاعل): چھا جانے والا؛ اوڑھنے کی چیز۔ ﴿هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۱)
(افعال) اَغْشٰى يُغْشِيْ اِغْشَاءً: کسی پر کوئی چیز ڈھانپ دینا۔ ﴿فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ﴾ (یٰسٓ ۳۶:۹)
(تفعیل) غَشّٰى يُغَشِّيْ تَغْشِيَةً: کسی پر کوئی چیز بتدریج اور خوب چھا دینا۔ ﴿فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰى﴾ (النجم ۵۳:۵۴)
(تفعّل) تَغَشّٰى يَتَغَشّٰى تَغَشِّيًا: اہتمام سے کسی پر چھا جانا۔ ﴿فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا﴾ (الاعراف ۷:۱۸۹)
(استفعال) اِسْتَغْشٰى يَسْتَغْشِيْ اِسْتِغْشَاءً: کسی چیز سے خود کو ڈھانپ لینا۔ ﴿وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ﴾ (نوح ۷۱:۷)
اردو میں اس مادے سے: غشی، غش (بے ہوشی کا دورہ؛ عربی میں: ڈھانپ لینا، چھا جانا)۔