Rizwan Zubair

مادّہ ض ر ر

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 4 · English

ض ر رḍ-r-r

(ن) ضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا (اصلی: ضَرَرَ يَضْرُرُ): کسی کو نقصان پہنچانا، تکلیف دینا (اردو میں «ضرر» اسی معنی میں)۔ ضَرٌّ / ضُرٌّ (اسمِ ذات): نقصان، تکلیف؛ ضُرٌّ خاص طور پر بدحالی اور جسمانی تکلیف کے لیے۔ ﴿قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا﴾ (الاعراف ۷:۱۸۸)

ضَرَرٌ (اسمِ ذات): مجبوری، عذر۔ ضَرَّاءُ: سختی۔ ﴿وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۷۷)

ضَارٌّ (اسم الفاعل، اصلًا ضَارِرٌ): تکلیف دینے والا۔

(مفاعلہ) ضَارَّ يُضَارُّ ضِرَارًا (اصلی: ضَارَرَ يُضَارِرُ): ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا۔ مُضَارٌّ: باب مفاعلہ میں مضاعف کا اسم الفاعل (مُضَارِرٌ) اور اسم المفعول (مُضَارَرٌ) دونوں ہم شکل ہو جاتے ہیں، اس لیے دو معنی ہیں: (۱) نقصان پہنچانے والا (۲) نقصان پہنچایا ہوا۔ ﴿لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا﴾ (البقرۃ ۲:۲۳۳)

(افتعال) اِضْطَرَّ يَضْطَرُّ اِضْطِرَارًا (اصلی: اِضْتَرَرَ يَضْتَرِرُ): اہتمام سے تکلیف دینا، مجبور کرنا (اردو میں «اضطرار، اضطراری» اسی معنی میں)؛ مُضْطَرٌّ میں بھی دونوں امکان ہیں: مجبور کرنے والا، اور مجبور کیا ہوا (اردو میں «مضطر» اسی معنی میں)۔ ﴿اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ﴾ (النمل ۲۷:۶۲)

اردو میں اس مادے سے: ضرورت، ضروری، مضر۔

«میرے پہلو میں دلِ مضطر نہ تھا، سیماب تھا» (بانگِ درا)

«غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں» (دیوانِ غالب)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ