(ن) ضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا (اصلی: ضَرَرَ يَضْرُرُ): کسی کو نقصان پہنچانا، تکلیف دینا (اردو میں «ضرر» اسی معنی میں)۔ ضَرٌّ / ضُرٌّ (اسمِ ذات): نقصان، تکلیف؛ ضُرٌّ خاص طور پر بدحالی اور جسمانی تکلیف کے لیے۔ ﴿قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا﴾ (الاعراف ۷:۱۸۸)
ضَرَرٌ (اسمِ ذات): مجبوری، عذر۔ ضَرَّاءُ: سختی۔ ﴿وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۷۷)
ضَارٌّ (اسم الفاعل، اصلًا ضَارِرٌ): تکلیف دینے والا۔
(مفاعلہ) ضَارَّ يُضَارُّ ضِرَارًا (اصلی: ضَارَرَ يُضَارِرُ): ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا۔ مُضَارٌّ: باب مفاعلہ میں مضاعف کا اسم الفاعل (مُضَارِرٌ) اور اسم المفعول (مُضَارَرٌ) دونوں ہم شکل ہو جاتے ہیں، اس لیے دو معنی ہیں: (۱) نقصان پہنچانے والا (۲) نقصان پہنچایا ہوا۔ ﴿لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا﴾ (البقرۃ ۲:۲۳۳)
(افتعال) اِضْطَرَّ يَضْطَرُّ اِضْطِرَارًا (اصلی: اِضْتَرَرَ يَضْتَرِرُ): اہتمام سے تکلیف دینا، مجبور کرنا (اردو میں «اضطرار، اضطراری» اسی معنی میں)؛ مُضْطَرٌّ میں بھی دونوں امکان ہیں: مجبور کرنے والا، اور مجبور کیا ہوا (اردو میں «مضطر» اسی معنی میں)۔ ﴿اَمَّنْ يُّجِيْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ﴾ (النمل ۲۷:۶۲)
اردو میں اس مادے سے: ضرورت، ضروری، مضر۔
«میرے پہلو میں دلِ مضطر نہ تھا، سیماب تھا» (بانگِ درا)
«غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں» (دیوانِ غالب)