(ض) ضَرَبَ يَضْرِبُ ضَرْبًا: مارنا، چوٹ لگانا (اردو میں «ضرب، ضرب المثل» اسی معنی میں)؛ نہایت وسیع الاستعمال فعل، سیاق کے مطابق کئی معانی دیتا ہے:
(۱) مارنا۔ ﴿فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ﴾ (الانفال ۸:۱۲)
(۲) کسی چیز کو کسی پر ڈالنا، پھیلانا (ضَرَبَ الْخِمَارَ عَلَي الْجَيْبِ)؛ [وَلْيَضْرِبْنَ]: اور وہ (چادر) ڈال لیں (النور ۲۴:۳۱)۔ ﴿وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ﴾ (البقرۃ ۲:۶۱)
(۳) سفر کرنا (ضَرَبَ فِي الْاَرْضِ)۔ ﴿وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ﴾ (النساء ۴:۱۰۱)
(۴) مثال دینا (ضَرَبَ مَثَلًا)۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيِۦٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا﴾ (البقرۃ ۲:۲۶)
(۵) سکہ ڈھالنا۔
(افتعال) اِضْطَرَبَ يَضْطَرِبُ اِضْطِرَابًا: ہلنا ڈولنا، بے چین اور بے قرار ہونا (اردو میں «اضطراب، مضطرب» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: مضطرب۔
«مضطرب رکھتا ہے میرا دلِ بے تاب مجھے» (بانگِ درا)
«کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں» (ضربِ کلیم)