(س) بَرِئَ يَبْرَأُ بَرَاءَةً: کسی تکلیف دہ چیز سے نجات حاصل کرنا، بیزار ہونا۔
بَرِيْٓءٌ (فعیل کے وزن پر اسم الفاعل): بیزار، بری (اردو میں «بری» اسی معنی میں)۔ ﴿اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ﴾ (الانعام ۶:۷۸)
بَرَاءَةٌ (اسمِ ذات): بے زاری، اعلانِ برأت (اردو میں «براءت» اسی معنی میں)۔ ﴿بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِۦٓ﴾ (التوبۃ ۹:۱)
تفعیل بَرَّاَ يُبَرِّئُ تَبْرِئَةً: الزام سے نجات دینا، بری کرنا۔ ﴿فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا﴾ (الاحزاب ۳۳:۶۹)
تفعل تَبَرَّاَ يَتَبَرَّاُ تَبَرُّؤًا: بیزاری کا اظہار کرنا (اردو میں «تبرا» اسی معنی میں)۔ ﴿اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا﴾ (البقرۃ ۲:۱۶۶)
افعال اَبْرَاَ يُبْرِئُ اِبْرَاءً: بیماری سے نجات دینا۔ ﴿وَتُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ﴾ (المائدۃ ۵:۱۱۰)
(ف) بَرَاَ يَبْرَاُ بَرْءًا: پھاڑنا، عدم سے وجود میں لانا۔ فاعل بَارِئٌ، مفعول فعیلہ کے وزن پر بَرِيَّة (اردو میں «باری» اسی معنی میں)۔ «برء» کا مفہوم لفظ خلق کے مفہوم سے ملتا جلتا ہے: خلق کا مفہوم ہے کسی چیز کا خاکہ (ڈیزائن) تیار کرنا، «برء» کا مفہوم ہے اس کو ٹھیک ٹھاک کرنا، تصویر کے معنی ہیں اس کو مکمل کرنا۔ اس اعتبار سے اگرچہ خالق اور باری میں ایک باریک سا فرق ہے لیکن عام استعمال میں دونوں ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہوتے ہیں۔ ﴿هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ﴾ (الحشر ۵۹:۲۴)؛ ﴿اُولٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ﴾ (البیّنۃ ۹۸:۷)
اردو میں اس مادے سے: مبرا۔