Rizwan Zubair

مادّہ ع ق ب

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 8 · English

ع ق بʿ-q-b

(ض، ن) عَقَبَ يَعْقِبُ وَيَعْقُبُ عَقْبًا: پیر کا پچھلا حصہ یعنی ایڑی مارنا؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے: (۱) پیچھے آنا (۲) جانشین ہونا (۳) ایک چیز جانے کے بعد اس کا دوسرا رُخ سامنے آنا، جیسے رات کے بعد صبح کا آنا، یعنی نتیجہ ظاہر ہونا، بدلہ سامنے آنا۔

عَقِبٌ ج اَعْقَابٌ (اسم ذات): کسی چیز کا پچھلا حصہ (اردو میں «عقب» اسی معنی میں)؛ (۱) ایڑی (۲) بیٹے، پوتے وغیرہ۔ ﴿نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيْهِ﴾ (الانفال ۸:۴۸)

عُقْبٌ (اسم ذات): نتیجہ، انجام۔ عُقْبٰى (افعل التفضیل کا مؤنث، فُعْلٰى کے وزن پر): زیادہ یا سب سے پیچھے، یعنی آخر میں ظاہر ہونے والا نتیجہ یا بدلہ (اردو میں «عقبیٰ»: آخرت؛ عربی میں: آخری نتیجہ، بدلہ)؛ زیادہ تر دو معانی میں آتا ہے: (۱) آخری (۲) بدلہ۔ ﴿اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَي الدَّارِ﴾ (الرعد ۱۳:۲۲)

عَاقِبَةٌ (اسم ذات): بدلہ، انجام (خواہ اچھا ہو یا برا) (اردو میں «عاقبت» اسی معنی میں)۔ ﴿وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ﴾ (الاعراف ۷:۱۲۸)

عَقَبَةٌ: دشوار گزار گھاٹی۔ ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ﴾ (البلد ۹۰:۱۱)

(افعال) اَعْقَبَ يُعْقِبُ اِعْقَابًا: کسی چیز کے بدلے میں کچھ دینا، بدلہ دینا۔ ﴿فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ﴾ (التوبۃ ۹:۷۷)

(تفعیل) عَقَّبَ يُعَقِّبُ تَعْقِيْبًا: پیچھے ہونا، پیچھے ڈالنا؛ پلٹ کر دیکھنا۔ مُعَقِّبٌ (اسم الفاعل): پیچھے ہونے والا، پیچھے ڈالنے والا۔ ﴿لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِۦ﴾ (الرعد ۱۳:۴۱)

(مفاعلہ) عَاقَبَ يُعَاقِبُ مُعَاقَبَةً وَعِقَابًا: ایک دوسرے کے پیچھے پڑنا؛ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے: (۱) کسی کے ساتھ زیادتی کرنا (۲) کسی زیادتی کا بدلہ دینا (۳) کسی زیادتی پر گرفت کرنا، سزا دینا۔ عَاقِبْ (فعلِ امر): تو بدلہ دے، سزا دے۔ ﴿وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهِۦ﴾ (النحل ۱۶:۱۲۶)؛ ﴿اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۶)

اردو میں اس مادے سے: عقوبت، تعاقب۔

«دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے» (بانگِ درا)

«حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے» (دیوانِ غالب)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ