Rizwan Zubair

مادّہ ع ق د

قرآنِ کریم میں اس مادّے کی مثالیں: 5 · English

ع ق دʿ-q-d

(ض) عَقَدَ يَعْقِدُ عَقْدًا: (۱) کسی چیز کو باندھنا، گرہ لگانا (۲) کسی چیز کو پکا کرنا، مضبوط کرنا، جیسے وعدہ یا سودا وغیرہ (متعدی) (۳) مضبوط ہونا (لازم)۔ ﴿وَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ﴾ (النساء ۴:۳۳)

عُقْدَةٌ ج عُقَدٌ (اسم ذات): گرہ (اردو میں «عقدہ» اسی معنی میں)۔ ﴿وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ﴾ (طٰہٰ ۲۰:۲۷)؛ ﴿وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ﴾ (الفلق ۱۱۳:۴)

عَقْدٌ ج عُقُوْدٌ (اسم ذات): عہد، پختہ معاہدہ (اردو میں «عقد»: نکاح؛ عربی میں: گرہ؛ پختہ معاہدہ)۔ ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾ (المائدۃ ۵:۱)

(تفعیل) عَقَّدَ يُعَقِّدُ تَعْقِيْدًا: بار بار پکا کرنا، خوب مضبوط کرنا (اردو میں «تعقید»: پیچیدگی، الجھاؤ؛ عربی میں: خوب پکا اور مضبوط کرنا)۔ ﴿بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَيْمَانَ﴾ (المائدۃ ۵:۸۹)

(انفعال) اِنْعَقَدَ يَنْعَقِدُ اِنْعِقَادًا: گرہ کا بندھ جانا؛ کسی مجلس یا معاہدے کا قائم ہونا (اردو میں «انعقاد، منعقد» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

(افتعال) اِعْتَقَدَ يَعْتَقِدُ اِعْتِقَادًا: کسی بات کو دل میں پختہ کر لینا، اس پر یقین رکھنا (اردو میں «اعتقاد، معتقد» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔

اردو میں اس مادے سے: عقیدہ، اعتقاد، منعقد۔

«کس قدر لذت کشودِ عقدۂ مشکل میں ہے» (بانگِ درا)

«آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں» (دیوانِ غالب)

باب عربی صیغے اور مشتقات اردو میں مستعمل الفاظ قرآنی آیت سورت و آیت کا حوالہ