ع م مʿ-m-m
(ن) عَمَّ يَعُمُّ عُمُوْمًا (اصلی: عَمَمَ يَعْمُمُ): سب پر چھا جانا، شامل ہونا (اردو میں «عموم، عمومی، عموماً» اسی معنی میں)۔ عَمّ ج أَعْمَام (مؤنث عَمَّة ج عَمَّات): چچا، پھوپھی۔ عَامَّة: عام لوگ (اردو میں «عام، عوام، عوامی» اسی معنی میں)۔ نیز «عَمَّ» بمعنی «عَنْ مَا» بھی آتا ہے (نون کو میم میں مدغم کر کے) — اور سورۃ النبأ کا آغاز اسی سے ہے: ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُوْنَ﴾، جو اسی مادہ کا نہیں بلکہ حرفِ جر و اسمِ استفہام کا مرکب ہے۔ قرآن میں (بطورِ مادہ) پانچ بار: ﴿أَوْ بُيُوْتِ أَعْمَامِكُمْ أَوْ بُيُوْتِ عَمَّاتِكُمْ﴾ (النور ۲۴:۶۱)۔
اردو میں اس مادے سے: عمامہ۔