(س) عَمِلَ يَعْمَلُ عَمَلًا: کام کرنا، کوئی فعل انجام دینا (اکثر قصد و ارادے سے، اور جانوروں کے بجائے خاص انسان کے افعال کے لیے)۔ ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُۥ﴾ (الزلزال ۹۹:۷)
عَمَلٌ ج اَعْمَالٌ (اسمِ ذات بھی): کام، عمل (اردو میں «عمل، اعمال، عملی» اسی معنی میں)۔ ﴿لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (الملک ۶۷:۲)
عَامِلٌ ج عٰمِلُوْنَ (اسم الفاعل): کام کرنے والا (اردو میں «عامل»: تعویذ گنڈے والا؛ کارندہ؛ عربی میں: کام کرنے والا)؛ نیز کسی کام پر مقرر کارندہ۔ ﴿عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۳)؛ ﴿وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا﴾ (التوبۃ ۹:۶۰)
مَعْمُوْلٌ (اسم المفعول): کیا ہوا کام (اردو میں «معمول»: روزمرہ کا دستور، عادت؛ عربی میں: کیا ہوا کام)۔ (یہ لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(مفاعلہ) عَامَلَ يُعَامِلُ مُعَامَلَةً: کسی کے ساتھ برتاؤ کرنا، لین دین کرنا (اردو میں «معاملہ، معاملات» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(استفعال) اِسْتَعْمَلَ يَسْتَعْمِلُ اِسْتِعْمَالًا: کام میں لانا، برتنا (اردو میں «استعمال، مستعمل» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: استعمال؛ معاملہ (بات، مسئلہ، قضیہ؛ عربی میں: لین دین، برتاؤ)۔
«عاملِ روزہ ہے تو اور نہ پابندِ نماز» (بانگِ درا)