(ن) عَدَا يَعْدُوْ عَدَاوَةً: حد سے گزرنا، دشمنی کرنا (اردو میں «عداوت» اسی معنی میں)؛ عَدْوًا: (۱) دوڑنا (۲) ظلم و زیادتی کرنا۔ ﴿اِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ﴾ (الاعراف ۷:۱۶۳)؛ ﴿وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا﴾ (العٰدیٰت ۱۰۰:۱)؛ ﴿وَاَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ﴾ (المائدۃ ۵:۶۴)
عُدْوَانٌ (اسمِ ذات): زیادتی، ظلم۔ عُدْوَةٌ: کسی چیز کی حد، کنارہ۔
عَدُوٌّ (فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ، اصلًا عَدُوْوٌ (اردو میں «عدو» اسی معنی میں)؛ اسم صفت کے طور پر آتا ہے): دل کھول کر ظلم و زیادتی کرنے والا، دشمن (واحد، جمع، مذکر، مؤنث سب کے لیے آتا ہے، اور اس کی جمع اَعْدَاءٌ بھی آتی ہے)۔ ﴿اِنَّ الشَّيْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ﴾ (فاطر ۳۵:۶)
(افتعال) اِعْتَدٰى يَعْتَدِيْ اِعْتِدَاءً: زیادتی کرنا۔ مُعْتَدٍ ج مُعْتَدُوْنَ (اسم الفاعل)۔ ﴿وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾ (البقرۃ ۲:۱۹۰)
(تفعّل) تَعَدّٰى يَتَعَدّٰى تَعَدِّيًا: کوشش کر کے تجاوز کرنا (اردو میں «تعدی» اسی معنی میں)؛ مضارع مجزوم يَتَعَدَّ۔ ﴿وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُۥ﴾ (الطلاق ۶۵:۱)
«عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو» (دیوانِ غالب)