ا ن فʾ-n-f
(س) اَنِفَ يَاْنَفُ اَنَفًا: (۱) خود دار ہونا، ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا۔ (۲) ناک بھوں چڑھانا۔ اسی سے أَنَفَة (غیرت، خود داری)۔
أَنْفٌ ج آنُفٌ وَأُنُوْفٌ: ناک؛ نیز ہر چیز کی ابتداء، جیسے پہاڑ کی چوٹی۔ چونکہ عرب کے ہاں ناک عزت و حمیت کا مرکز سمجھی جاتی تھی، اس لیے اسی سے غیرت کا مفہوم نکلا۔ ﴿وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ﴾ (المائدۃ ۵:۴۵)
اٰنِفًا (اسمِ فاعل، ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب): شروع میں، ابھی ابھی، تھوڑی دیر پہلے۔ ﴿مَاذَا قَالَ اٰنِفًا﴾ (محمد ۴۷:۱۶)