ا ف لʾ-f-l
(ن) أَفَلَ يَأْفُلُ أُفُوْلًا: غروب ہو جانا، چھپ جانا، نظروں سے اوجھل ہو جانا — خاص طور پر ستارے، چاند اور سورج کے لیے۔ اس مادہ کی بلاغی اہمیت یہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسی لفظ کو معبود کی نفی کی بنیاد بنایا: جو ڈوب جائے وہ رب نہیں ہو سکتا۔ ﴿فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ﴾ (الانعام ۶:۷۶)
آفِل ج آفِلِيْن (اسمِ فاعل): ڈوبنے والا۔ ﴿لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ﴾ (الانعام ۶:۷۶)۔ قرآن میں چار بار: تین بار فعل اور ایک بار اسمِ فاعل۔