Islamic Banking 03: Ijara

اجارہ کے معاملہ میں اسلامی بینک یہ کہتا ہے کہ وہ گاڑی آپ کو کرایہ پر فراہم کرتا ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا ہم گھر کرایہ پر دیتے ہیں اور اس میں اسلامی شریعت کی رو سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ یہاں پر اُدھار کا معاملہ نہیں ہوتا۔ اگر خدانخواستہ کسی آفت کے نتیجہ میں گھر تباہ ہوجائے ، اسکی مارکیٹ میں قیمت گر جائے، استعمال سے پرانا ہوجائے، تو کرایہ دار کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اس کو ہوبہو اسی حالت میں واپس کرے۔ اسکا تقریباً تمام تر رسک مالک مکان کے ذمّہ ہوتا ہے۔اجارہ کے معاملہ میں بھی گاڑی کا ٹائٹل بینک کے پاس رہتا ہے ، بینک کچھ رقم اسی وقت وصول کرلیتا ہے اور باقی کرایہ کی شکل میں لیتا رہتا ہے۔اس میں بظاہر کوئی حر ج نہیں۔
مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ بینک اجارہ کی صورت میں جو کرایہ وصول کرتا ہے اس کی مقدار تقریباً کسی عام بینک کے لیز رینٹل (lease rental)کے برابر ہی ہوتی ہے ۔ اور عام بینک میں لیز رینٹل میں سود اور اصل زر دونوں چیزیں ہوتی ہیں، جب اصل زر مکمل طور پر بینک کو واپس مل جاتا ہے تو گاڑی خود بخود صارف کو ٹرانسفر ہو جاتی ہے۔ اسلامی بینک میں تو اصل زر تھا ہی نہیں کیونکہ یہاں تو قرض کا معاملہ ہی نہیں تھا۔ تبھی تو یہ کرایہ تھا ورنہ یہ پہلے مرحلے میں ہی سود بن جاتا۔ لیکن اب صارف کے لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اتنا ہی کرایہ کیوں ادا کرے اگر اس کو آخر میں گاڑی بھی نہیں ملنی۔اس کا سادہ حل یہ تھا کہ بینک اپنا کرایہ اس حد تک کم کردے کہ یہ ڈیل صارف کے لئے پُرکشش بن جائے۔ مگر کیونکہ ایسی صورت میں بینک کو اجارہ کے اختتام پر ملنے والی گاڑی کو بیچتے وقت نقصان کا امکان بھی ہوتا ہے لہذٰا وہ اس معقول حل کو رد کرتے ہوئے اپنا کرایہ اُتنا ہی رکھتاہے مگر صارف کی خوشی کے لئے ایک شق کا اضافہ کردیتا ہے ۔ یہ شق دیکھ کرایک دفعہ تو انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ کس قسم کی اسلامی بینکنگ ہے۔ وہ شق یہ کہتی ہے کہ ہم لیز کے اختتام پر یہ گاڑی صارف کو تحفے میں دے دیں گے۔
اگر بینک کی طرف سے ایسے بے وجہ کے تحفے تحائف صارف کو دینے میں کوئی حرج نہیں تو پھر تو کام بہت آسان ہے۔ بینکوں کو چاہئے کو وہ جن کھاتہ داروں سے بچتیں جمع کرتے ہیں، سال کے آخر میں وہ ان کھاتہ داروں کو تحفے کے طور پر دس پندرہ فیصد رقم دے دیا کریں۔ اتنی بڑی ریسرچ کی ضرورت ہی نہیں، عام بینکوں میں جہاں جہا ں سود کا لفظ استعمال ہوتا ہے ، اسے کاٹ دیں اور اس کی جگہ تحفہ لکھ دیں، دو منٹ میں سارا سودی کاروبار اسلامی بینکاری میں تبدیل ہو جائے گا۔
Read the full article: English · اردو · Islamic Banking