Islamic Banking 02: Murabaha

غور کیاجائے تو یہ ہوبہو وہی ٹرانزیکشن ہے جو ایک نارمل بینک کے ساتھ کی جاتی ہے۔ صرف آپ ایک کاغذ پر لکھ دیتے ہیں کہ اصل میں کاٹن بینک نے خریدی ، حالانکہ نہ تو بینک کو کاٹن کی قیمت کا کوئی اندازہ ہوتا ہے ، نہ اسے کاٹن کی ورائٹی اور کوالٹی کا کوئی علم ہوتا ہےاور نہ ہی بینک کاٹن خریدتا ہے۔ آپ خود ہی کاٹن بیچنے والے سے ساری ڈیل کرتے ہیں ،اٹھا کے اپنے گودام میں لے جاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں، بینک صرف روپیہ فراہم کرتا ہے ۔ آپ بینک کو کاٹن خریدنے کی کوئی آفر نہیں کرتے ، نہ ہی بینک آپ کی آفر قبول کرنے یا نہ کرنے کے متعلق کوئی غور و فکر کرتا ہے، ایسا محض کاغذوں میں لکھا جاتا ہے، دل کو تسلی دینے کے لئے کہ اصل میں کاٹن بینک نے خریدی۔ یہ کامن سینس کا سوال ہے کہ اگر بینک نے آپ سے پہلے سے ہی وعدہ لے لیا کہ آپ نے ہر حال میں کاٹن بینک سے خریدنی ہے تو اس کامطلب واضح ہے کہ کاٹن آپ نے ہی خریدی ہے ، بینک کا کاٹن کی خرید و فروخت سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں؛ اس نے آپ کو محض قرض فراہم کیا ہے ۔ اور جیساکہ ہم اچھی طرح سمجھ چکے کہ قرض کے معاملے میں کچھ بھی زیادہ لینا ربا ہے۔
Read the full article: English · اردو · Islamic Banking