Rizwan Zubair
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Islamic Banking
اسلامی معاشیات · رضوان زبیر

اسلامی بینکاری
اور ربا

ربا کی قرآنی تعریف، اسلامی بینکنگ کی پراڈکٹس کا جائزہ
اور ایک عام آدمی کے لیے سادہ انداز میں وضاحت

🕌 قرآن و حدیث سے دلائل 📋 مرابحہ · اجارہ · مشارکہ ✦ فقہی حوالہ جات
۱ تمہید

اس مضمون کا بنیادی مقصد سادہ الفاظ میں ربا کی تعریف بیان کرنا اور اسلامی بینکاری کی پراڈکٹس کا جائزہ لینا ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ مشکل اصطلاحات کے بجائے سادہ انداز اختیار کیا جائے تاکہ ہر قاری کسی بھی پراڈکٹ کا آسانی سے معائنہ کر کے اپنا ذاتی فیصلہ خود کرسکے۔ کسی بھی موضوع پر ایک سے زائد آرا پائی جاسکتی ہیں اور کسی بھی رائے میں غلطی کا امکان موجود ہوتا ہے۔ مگر آخر کار ہر فرد نے اپنے عمل کا فیصلہ خود ہی کرنا ہوتا ہے۔لہذٰا اس مضمون کا مقصد کسی خاص مکتبہ ٔفکر پرتنقید یا اسکی توثیق کے بجائے اس اہم موضوع پر عام آدمی کی فہم کو بہتر کرنا ہے تاکہ اسے درست فیصلہ کرنے میں مدد مل سکے۔۱

۲ ربا کی تعریف

ربا یا سود کی تعریف کے لئے سب سے پہلے ہم اللہ کی کتاب سے رجوع کرتے ہیں۔اگرچہ قرآن میں عام طور پر اصطلاحات کی فقہی، قانونی یا فنی تعریف نہیں ملتی ، مثلاً نماز، زکوٰۃ وغیرہ کی تعریف کے لئے ہمیں قرآن کےساتھ ساتھ سنت سے رجوع کرنا ضروری ہو جاتا ہے ، مگر سود کے معاملہ میں کچھ غور وفکر سے ہم قرآن سےبھی تعریف حاصل کرسکتے ہیں۔

مگر اس سے پہلے مناسب ہے کہ ہم وہ دلیل دہرالیں جو عام طور پر لوگ ربا کے حق میں دیتے ہیں کہ ربا تو اصل میں اس سود کو کہتے تھے جب مہاجن غریب لوگوں سے ذاتی ضرورت کے قرضوں پر بہت زیادہ شرح سے سود لیا کرتے تھے وگرنہ اگر تجارت کی غرض سے دیئے گئے قرض پر سود وصول کیا جائے تو وہ بالکل جائز ہونا چاہئے کیونکہ وہ تو ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی بھی کاروبار میں نفع حاصل کرتے ہیں یا جیسے مکان کرائے پر دیا جاتا ہے ویسے ہی ہم روپیہ کرایہ پر دیتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو شاید علم نہ ہو کہ قرآن کے نزول کے وقت بھی ایسے لوگ پائے جاتے تھےاور ان کا ذکر سورہ بقرہ میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے:

ٱلَّذِينَ يَأْكُلُونَ ٱلرِّبَوٰا۟ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِى يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيْطَٰنُ مِنَ ٱلْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْبَيْعُ مِثْلُ ٱلرِّبَوٰا۟ ۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰا۟ ۚ فَمَن جَآءَهُۥ مَوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ فَٱنتَهَىٰ فَلَهُۥ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

(البقرة ۲:۲۷۵)

وہ لوگ جو سُود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) نہیں کھڑے ہوں گے مگر جیسے کہ کھڑا ہوتا ہے وہ شخص جسے شیطان نے چھو کر پاگل کر دیا ہو، یہ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ سودا کرنا (تجارت) بھی تو سود جیسا ہے، اور حلال کیا اﷲ نے سودے کو اور حرام کیا ہے سود کو، پس جس کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پھر وہ (سود سے) باز آگیا تو اس کے لیے ہے جو گزر چکا اور اس کا معاملہ اﷲ کے پاس ہے، اور جس نے اسے دہرایا تو پھر ایسے لوگ آگ کے ساتھی ہیں ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔

قرآن کی اس وعید کو مدِّ نظر رکھیں اور اس کے بعد سورہ بقرہ کی ان آیات پر غور کریں جن سے سود کی تعریف واضح ہوتی ہے:

يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَوٰآ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(البقرة ۲:۲۷۸)

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود میں سے اگر تم مومن ہو

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا۟ فَأْذَنُوا۟ بِحَرْبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

(البقرة ۲:۲۷۹)

اگر تم ایسا نہ کرو تو تیار ہو جاو اللہ اور اسکے رسول کے ساتھ جنگ کے لیے اور اگر تم باز آجاو تو تمہارے لیے ہیں تمہارے اصل مال، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے

یعنی جب یہ آیات نازل ہوئیں تو لوگ سود کا کاروبار کیا کرتے تھے اور ان معاہدات کے متعلق یہاں ہدایات دی گئی ہیں۔ آیت ۲۷۸ میں یہ کہاگیا کہ جو سود باقی ہے اسے چھوڑ دو ہاں مگر آیت ۲۷۹ میں مزید بتادیا گیا کہ تمہارے اصل مال تمہیں واپس ملنے چاہئیں۔ اس صورت میں نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم ہوگا۔ اگر ہم ذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَوٰآ اور فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَٰلِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ کو ملا کر پڑھیں تو یہ پتہ چلتا ہےکہ:

پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ربامحض وہ سود ہے جو غریب لوگوں سے لیا جائے اور امیروں سے لیا جانے والا نفع یا تجارتی قرضوں پر وصول کیا جانے والا سود ربا نہیں ؛ انہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر قرآن میں الفاظ ہوتے کہ" تمہارے لیے ہیں تمہارے اصل مال اور وہ نفع جو تم صاحبِ استطاعت لوگوں سے لو۔ یا وہ نفع جو تم کاروبار کرنے والے لوگوں سے لو۔" یہاں یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان معاہدات کو کامل طور پر منسوخ بھی فرماسکتے تھے مگر اس طرح قرض دینے والے سے زیادتی ہو جاتی۔ لہذٰا زیادتی کے امکان کو ختم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمادی کہ تم اپنے اصل مال واپس لے سکتے ہو۔ بالکل اسیطرح اگر کسی بھی قسم کا نفع لینے کی اجازت ہوتی تو پھر اس کی بھی اجازت دی جاتی ورنہ وہاں بھی ظلم کا معاملہ ہو جاتا۔ گویا اگر قرض دینے والا سود لے تووہ ظلم ہے اور اگر اس کا جائز مال اسے واپس نہ ملے تو یہ بھی ظلم ہے۔ لہذٰا اس کا جائز مال جو واپس مل سکتا ہے محض اصل مال ہے جسے پرنسپل principal بھی کہا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح اگر کسی خاص شرح سے زیادہ سود ہی ربا ہوتا تو پھر کہا جاتا کہ تمہارے لئے ہیں "تمہارے اصل مال اور تھوڑا سا معقول نفع"۔ کیونکہ اگر تھوڑا سا نفع جائز ہوتا تو اس تھوڑے نفع کا نہ ملنا بھی ظلم کا معاملہ ہو جاتا。

کسی کے ذہن میں یہ خیال آسکتا ہے کہ شاید اس وقت جتنے قرضے تھے وہ سو فیصدی مہاجنی نوعیت کے تھے اور صرف غریبوں کا خون چوس کر وصول کئے جاتے تھے ، تو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسا ہرگز نہ تھا۔خود قرآن اس بات پر گواہ ہے کہ قرضداروں میں چند تنگدست افراد تھے اور باقی تنگدست نہ تھے:

وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍۢ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍۢ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

(البقرة ۲:۲۸۰)

اور اگر وہ ہو تنگ دست تو مہلت دو اسے سہولت تک، اور یہ کہ تم صدقہ کردو تو یہ زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم سمجھو۔

اگر وہ تنگ دست ہو کا مطلب ہے کہ ان میں سے کوئی تنگدست بھی ہو سکتا تھا – سب کے سب تنگ دست نہیں تھے۔ اور اگر عربی زبان کی نزاکتوں کو سمجھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تنگدست لوگ بہت کم تھے جیسا کہ مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

"عربی زبان میں ’’ان‘‘ کا استعمال عام اور عادی حالات کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بالعموم نادر اور شاذ حالات کے بیان کے لیے ہوتا ہے۔ عام حالات کے بیان کے لیے عربی میں ’اذا‘ ہے۔ اس روشنی میں غور کیجئے تو آیت کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اس زمانہ میں عام طور پر قرض دار ذومیسرہ (خوش حال) ہوتے تھے لیکن گاہ گاہ ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ قرضدار غریب ہو یا قرض لینے کے بعد غریب ہو گیا ہو تو اس کے ساتھ اس رعایت کی ہدایت فرمائی۔"

پس یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ قرض کے معاملہ میں کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا ربا ہے۔اگر کسی کے ذہن میں قرآن سے سود کی تعریف متعین کرنے میں کوئی ابہام رہ جائے تومزید تسلّی کے لئے ہم رسول کریم ؐ کی احادیث سے رجوع کرسکتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تشریح کے لئے بھیجا۔ سود کا ذکر کئی احادیث میں آتا ہے ، مثلاً:

حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

”اگر تم سونا دو تو اتنا ہی سونا واپس لو، وہی مقدار اور وہی معیار، اگر تم چاندی دو تو اتنی ہی چاندی واپس لو، وہی مقدار اور وہی معیار، جو زیادہ دے یا زیادہ لینا چاہے تو یہی ربا ہے“

)مسلم1981)

یہاں سے بھی واضح ہوگیا کہ نبی کریم ؐ نے حکم فرماد یا کہ اصل قرض کے اوپر کچھ بھی زیادہ لینا ربا ہے ، ہمیں صرف اصل مال - وہی مقدار اور وہی معیار – یعنی بس وہی کچھ جو اصلاً دیا گیاتھا وہ واپس لینے کی اجازت ہے۔، یعنی پرنسپل اماؤنٹ اور بس۔اسی طرح ایک اور حدیث بیہقی میں ملتی ہے:

کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً فَھُوَ وَجْہٌ مِّنْ وُّجُوْہِ الرِّبواٰ

ہر وہ قرض جو نفع کھینچ لائے وہ سود کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہے ۔

بیہقی

اس سے بڑھ کر ، نبی کریمؐ نے مزید حکم دیا کہ مال و دولت کے علاوہ کسی اور انداز میں بھی کسی قسم کا نفع حاصل نہ کیا جائے:

انس ابن مالک سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

”جب تم ميں سے كوئ شخص قرض دے تو اسے ہديہ ديا جائے، يا پھر اسے جانور پر سوارى كرائ جائے تو وہ نہ تو اس جانور پر سوار ہو، اور نہ ہی ہديہ قبول كرے، ليكن اگر ان كے مابين اس سے قبل اس کی عادت ہو“

سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 2433)

یعنی اگر آپ نے کسی کو قرض دیا ہے اور وہ شخص اخلاقی دباؤ میں آکر آپ کو کہیں لفٹ دینے کی آفر کرتا ہے ، تو اللہ کے نبی ؐ نے اس سے بھی منع فرمادیا ، الّا یہ کہ آپ کے پہلے سے ایسے تعلقات ہوں۔ ذرا سوچئے جب آپ قرض کے بدلے گاڑی میں لفٹ تک نہیں لے سکتے ، جس میں قرضدار کا کوئی نقصان بھی نہیں ، تو پھر قرض پر نفع لینے کے متعلق تو سوچابھی نہیں جا سکتا。
اسی وجہ سے ہمارے فقہا اتنی احتیاط کیاکرتے تھے کہ اگر کسی کو قرض دیتے تھے تو اسکی دیوار کے سائے میں بھی نہیں بیٹھتے تھے۔ اور ایسی احتیاط ہی لازم ہے کیونکہ اسی کا نام تقوٰی ہے۔ اور اللہ تعالی نے سود کے معاہدات منسوخ کرتے ہوئے یہی فرمایا ہےکہ ، يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ اے ایمان والو اللہ کا تقوی اختیار کرو ۔
فقہاء نے بھی عام طور سے قرآن اور حدیث کی روشنی میں سود کی یہی تعریف بیان کی ہے ۔ مولانا مودودی اپنی کتاب 'سود' کے صفحہ ۱۹۲ پر لکھتے ہیں:

امت کے تمام فقہا نے بالاتفاق اس حکم کا منشا یہی سمجھا ہے کہ قرض کے معاملہ میں اصل سے زائد جو کچھ بھی لیا جائے وہ حرام ہے -

اسی طرح وہ فقہ کی کتاب نھایہ ابن اثیر سے نقل کرتے ہیں:

ھو فِی الشَّرْعِ الزِّیَادَۃُ عَلی اَصْلِ الْمَالِ مِنْ غَیْرِ عَقْدٍ تَبَایَعَ ۔
شریعت میں یہ اصل مال پر زیادتی کو کہتے ہیں اگر بیع کا معاملہ نہ ہو۔

ڈاکٹر عمران اشرف عثمانی نے بھی ، جو مولانا تقی عثمانی کے فززند ہیں ، اپنی کتاب Meezan Bank’s Guide to Islamic Banking میں حضرت علی سے روایت کرتے ہوئے صفحہ ۴۷ پر سود کی یہی تعریف بیان کی ہے:

One of the ahadith quoted by Ali ibn at Talib (RAA) has defined Riba An Nasiyah in similar words. The Holy Prophet ﷺsaid:
"Every loan that draws interest is Riba."

اسی بنیاد پر جب یہ سوال کیا جائے کہ اگر ہم نے کسی کا گھر قرض کے بدلے گروی رکھا ہو اور وہ گھر خالی ہو تو کیا ہم اس میں رہائش رکھ سکتے ہیں، تو فقہاء بالاتفاق اس کو سود قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اکثر یہ ایسی صورت ہوتی ہے جس میں گھر خالی پڑے رہنے کی وجہ سے مقروض کے لئے بے مصرف ہوتا ہے مگر چونکہ قرض کے معاملہ میں کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا سود ہے لہذٰا فقہا اس کی اجازت نہیں دیتے۔

اس تمام بحث کے بعد ہم امید رکھتے ہیں کہ ایک عام آدمی ، جسے مالیات کے شعبے سے شغف نہ بھی ہو، سود کی تعریف کو بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ قرض کے معاملہ میں کسی بھی قسم کا نفع سود ہے۔

۳ سود کا متبادل – اصولی نکتہ

جب سود کی حرمت انسان پر واضح ہو جائے تو پھر معاشی نظام کو چلانے کے لئے کو ئی متبادل تلاش کرنے کا سوال اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے کچھ بنیادی اصولوں کو ذہن میں دہرا لینا چاہئے:

۴ اسلامی بینکاری

اب ہم اسلامی بینکنگ کی چند پراڈکٹس کا ایک ایک کرکے جائزہ لیتے ہیں، جن میں سے پہلی دو مرابحہ اور اجارہ تقریباً ستر فیصد اسلامی بینکاری کا احاطہ کرتی ہیں۔

ا۔ مرابحہ:

ہم ایک سادہ مثال لیتے ہیں، فرض کیجئے کہ آپ کی ایک سپننگ مل ہے جسے کاٹن سیزن میں کپاس کی خریداری کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ یہ کپاس سیزن میں سٹاک کرنی پڑتی ہے اور پھر سارا سال استعمال ہوتی رہتی ہے۔ اس موسمی (seasonal)ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مل کسی بھی بینک سے قرض لے لیتی ہے اور کاٹن خرید کر اسٹاک کرلیتی ہے۔ پھر سال کے دوران وہ کاٹن استعمال ہوتی رہتی ہے اور آپ دھاگے کی فروخت سے حاصل ہونے والے روپے سے قرض کی رقم مع سود بینک کو آہستہ آہستہ واپس کردیتے ہیں۔
اب جب یہ معاملہ اسلامی بینک کے ساتھ کیا جاتا ہے تو کچھ اس قسم کا معاہدہ لکھا جاتا ہے:

اب غور کیاجائے تو یہ ہوبہو وہی ٹرانزیکشن ہے جو ایک نارمل بینک کے ساتھ کی جاتی ہے۔ صرف آپ ایک کاغذ پر لکھ دیتے ہیں کہ اصل میں کاٹن بینک نے خریدی ، حالانکہ نہ تو بینک کو کاٹن کی قیمت کا کوئی اندازہ ہوتا ہے ، نہ اسے کاٹن کی ورائٹی اور کوالٹی کا کوئی علم ہوتا ہےاور نہ ہی بینک کاٹن خریدتا ہے۔ آپ خود ہی کاٹن بیچنے والے سے ساری ڈیل کرتے ہیں ،اٹھا کے اپنے گودام میں لے جاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں، بینک صرف روپیہ فراہم کرتا ہے ۔ آپ بینک کو کاٹن خریدنے کی کوئی آفر نہیں کرتے ، نہ ہی بینک آپ کی آفر قبول کرنے یا نہ کرنے کے متعلق کوئی غور و فکر کرتا ہے، ایسا محض کاغذوں میں لکھا جاتا ہے، دل کو تسلی دینے کے لئے کہ اصل میں کاٹن بینک نے خریدی۔ یہ کامن سینس کا سوال ہے کہ اگر بینک نے آپ سے پہلے سے ہی وعدہ لے لیا کہ آپ نے ہر حال میں کاٹن بینک سے خریدنی ہے تو اس کامطلب واضح ہے کہ کاٹن آپ نے ہی خریدی ہے ، بینک کا کاٹن کی خرید و فروخت سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں؛ اس نے آپ کو محض قرض فراہم کیا ہے ۔ اور جیساکہ ہم اچھی طرح سمجھ چکے کہ قرض کے معاملے میں کچھ بھی زیادہ لینا ربا ہے۔

یہ کچھ ویسا ہی معاملہ ہے جو یہودیوں نے ہفتے کے دن کے بارے میں کیا۔ یہودی تو پھر بھی کچھ نہ کچھ ایسا انتطام کرتے تھے کہ منع کیا گیا شکار اتوار کو کرتے تھے۔اور غالباً انھوں نے ہوبہو وہی عمل نہیں کیا تھا جس سے منع کیا گیا تھا اگرچہ حکم کی روح کو پامال کردیا ۔ یہاں تو ہوبہو کام بھی وہی کیا جاتا ہے جس میں کاغذی کاروائی کے سوا ذرہ برابر بھی فرق نہیں۔
اس پراڈکٹ کو جسطرح Meezan Bank’s Guide to Islamic Banking میں بیان کیا گیا ہے ، وہ بھی قابلِ غور ہے۔ صفحہ ۱۲۷ پر وہ اس ٹرانزیکشن کے پانچ مراحل بیان کرتے ہیں۔آخری چار مراحل درج ذیل ہیں ، (پہلا ہم اس کے بعد بیان کریں گے):

2. An agency agreement is signed by both parties in which the institution appoints the client as his agent for purchasing the commodity on its behalf.
3. The client purchases the commodity on behalf of the institution and takes possession as the agent of the institution.
4. The client informs the institution that it has purchased the commodity and simultaneously makes an offer to purchase it from the institution.
5. The institution accepts the offer and the sale is concluded whereby ownership as well as risk is transferred to the client.

اس کے بعد وہ صفحہ ۱۲۸ پر لکھتے ہیں :

The most essential element of the transaction is that the commodity must remain in the risk of the institution during the period between the third and fifth stage. The above is the only way by which this transaction is distinguished from an ordinary interest-based transaction.

یعنی تیسرا مرحلہ جب بینک آپ کو ایجنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کاٹن خریدتا ہے اور پانچواں مرحلہ جس میں وہ آپ کو کاٹن بیچتا ہے اس دوران تمام مال کار سک بینک کے اوپر ہوگا۔ورنہ وہ خود یہ کہتے ہیں کہ اس ٹرانزیکشن اورسودی ٹرانزیکشن میں کوئی بھی فرق نہیں۔ اب ذرا پہلا مرحلہ پڑھئے :

1. The client and the institution sign an overall agreement whereby the institution promises to sell and the client promises to buy the commodity from time to time on an agreed ratio of profit added to the cost. This agreement may specify the limit up-to which the facility may be availed.

گویا تیسرے مرحلے کے بعد سے لیکر پانچویں مرحلے تک وہ مال بینک کے رسک میں ہوناچاہیے مگر پہلے ہی مرحلے میں یہ وعدہ لے لیا کہ آپ نے وہ مال خرید کر رہنا ہے۔ اگر آپ نے وہ مال ہر حال میں خریدنا ہے تو پھر وہ بینک کے رسک میں گیا ہی کب ؟پھر تووہ پہلے مرحلے سے پانچویں مرحلے تک آپ کے ہی رسک میں ہے۔ اگر یہ وعدے والی شق نہ ہوتی تو بینک یہ کاٹن خریدتا اور اس کار سک اُٹھاتا ، آپ شاید خریدتے اور شاید نہ خریدتے اور یہ ایک کاروبار کا معاملہ ہوتا۔ مگر جب بینک نے حیلہ استعمال کرتے ہوئے آپ سے پہلے سے ہی وعدہ لے لیا تو اس نے کوئی رسک نہیں اُٹھایا اور درحقیقت اس نے آپ کو روپیہ قرض پر دیا اور ہر وہ قرض جو نفع کھینچ لائے وہ سود ہے۔

ب- اجارہ:

دوسری سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی پراڈکٹ اجارہ ہے، عربی کا یہ لفظ لیز (lease)کا مترادف ہے ۔ اسے بھی ہم ایک سادہ مثال سے سمجھتے ہیں۔ فرض کیجئے آپ کو ایک گاڑی لیز کروانی ہے۔ آپ ایک عام بینک کے پاس جاتے ہیں ، گاڑی پسند کرکے بینک کے ذریعے رقم ادا کرتے ہیں، گاڑی کا ٹائٹل، سیکیورٹی کے طور پر بینک کے نام پر رہتا ہے ۔ آپ کچھ رقم بینک کو موقع پر ادا کرتے ہیں اور باقی کی رقم مع سود بینک کو ماہانہ قسطوں کی صورت میں واپس کردیتے ہیں۔ اس قسط کو لیز رینٹل کہا جاتا ہے جس میں اصل زر اور سود دونوں شامل ہوتے ہیں۔
اب اجارہ کے معاملہ میں اسلامی بینک یہ کہتا ہے کہ وہ گاڑی آپ کو کرایہ پر فراہم کرتا ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا ہم گھر کرایہ پر دیتے ہیں اور اس میں اسلامی شریعت کی رو سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ یہاں پر اُدھار کا معاملہ نہیں ہوتا۔ اگر خدانخواستہ کسی آفت کے نتیجہ میں گھر تباہ ہوجائے ، اسکی مارکیٹ میں قیمت گر جائے، استعمال سے پرانا ہوجائے، تو کرایہ دار کے لئے ضروری نہیں کہ وہ اس کو ہوبہو اسی حالت میں واپس کرے۔ اسکا تقریباً تمام تر رسک مالک مکان کے ذمّہ ہوتا ہے۔اجارہ کے معاملہ میں بھی گاڑی کا ٹائٹل بینک کے پاس رہتا ہے ، بینک کچھ رقم اسی وقت وصول کرلیتا ہے اور باقی کرایہ کی شکل میں لیتا رہتا ہے۔اس میں بظاہر کوئی حر ج نہیں۔

مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ بینک اجارہ کی صورت میں جو کرایہ وصول کرتا ہے اس کی مقدار تقریباً کسی عام بینک کے لیز رینٹل (lease rental)کے برابر ہی ہوتی ہے ۔ اور عام بینک میں لیز رینٹل میں سود اور اصل زر دونوں چیزیں ہوتی ہیں، جب اصل زر مکمل طور پر بینک کو واپس مل جاتا ہے تو گاڑی خود بخود صارف کو ٹرانسفر ہو جاتی ہے۔ اسلامی بینک میں تو اصل زر تھا ہی نہیں کیونکہ یہاں تو قرض کا معاملہ ہی نہیں تھا۔ تبھی تو یہ کرایہ تھا ورنہ یہ پہلے مرحلے میں ہی سود بن جاتا۔ لیکن اب صارف کے لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اتنا ہی کرایہ کیوں ادا کرے اگر اس کو آخر میں گاڑی بھی نہیں ملنی۔اس کا سادہ حل یہ تھا کہ بینک اپنا کرایہ اس حد تک کم کردے کہ یہ ڈیل صارف کے لئے پُرکشش بن جائے۔ مگر کیونکہ ایسی صورت میں بینک کو اجارہ کے اختتام پر ملنے والی گاڑی کو بیچتے وقت نقصان کا امکان بھی ہوتا ہے لہذٰا وہ اس معقول حل کو رد کرتے ہوئے اپنا کرایہ اُتنا ہی رکھتاہے مگر صارف کی خوشی کے لئے ایک شق کا اضافہ کردیتا ہے ۔ یہ شق دیکھ کرایک دفعہ تو انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ کس قسم کی اسلامی بینکنگ ہے۔ وہ شق یہ کہتی ہے کہ ہم لیز کے اختتام پر یہ گاڑی صارف کو تحفے میں دے دیں گے۔ ڈاکٹر عمران عثمانی صاحب اس کی وجہ صفحہ ۱۵۸ پر بیان کرتے ہیں:

As the lessor already recovers his cost along with an addition profit thereon, which is normally equal to the amount of interest which could have been earned on a loan of that amount advanced for that period, the lessor has no further interest in the leased asset...For these reasons the leased asset is generally transferred to the lessee at the end of the lease, either free of any charge or at a nominal token price.

یعنی کیونکہ بینک کو اپنی رقم اور نفع دونوں وصول ہو گئے لہذٰا وہ گاڑی اس کے کسی کام کی نہیں۔ پہلے تو خود غور کریں، کہ کیا آپ کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وہ گاڑی بینک کے کسی کام کی نہیں۔ اگر فرض کریں واقعی وہ گاڑی بینک کے لئے بیکار ہے تو پھر وہ گاڑی ایدھی والوں کو تحفے میں دے دیں ، صارف کو دینے کی کیا تُک ہے سوائے اس کے کہ اللہ کی شریعت کا مذاق اُڑایا جائے۔یعنی ہوبہو وہی ٹرانزیکشن بنالی جاتی ہے جیسے ایک عام بینک کی لیز ٹرانزیکشن ہوتی ہے۔ اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے کاغذ پر چار شقیں لکھ دی جاتی ہیں، کہ اصل میں تو ہم نے گاڑی کرائے پر دی تھی۔
اگر بینک کی طرف سے ایسے بے وجہ کے تحفے تحائف صارف کو دینے میں کوئی حرج نہیں تو پھر تو کام بہت آسان ہے۔ بینکوں کو چاہئے کو وہ جن کھاتہ داروں سے بچتیں جمع کرتے ہیں، سال کے آخر میں وہ ان کھاتہ داروں کو تحفے کے طور پر دس پندرہ فیصد رقم دے دیا کریں۔ اتنی بڑی ریسرچ کی ضرورت ہی نہیں، عام بینکوں میں جہاں جہا ں سود کا لفظ استعمال ہوتا ہے ، اسے کاٹ دیں اور اس کی جگہ تحفہ لکھ دیں، دو منٹ میں سارا سودی کاروبار اسلامی بینکاری میں تبدیل ہو جائے گا۔
اس پراڈکٹ کو بھی گائڈ بک میں جس طرح بیان کیا گیا ہے وہ قابلِ غور ہے۔ صفحہ ۱۶۱ پر بیان کرتے ہیں:

The agreement of Ijarah itself should not be subjected to signing this promise of sale or gift but the promise should be recorded in a separate document.

یعنی سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجئے کہ اگر آپ نے ایک کاغذ پر یہ لکھ دیا کہ یہ گاڑی بینک نے آپ کو کرایہ پر دی ، اور اسی کاغذ پر یہ بھی لکھ دیا کہ یہ گاڑی تحفے کی صورت میں صارف کو مل جائے گی تو یہ پراڈکٹ حرا م ہے۔ لیکن اگر آپ نے ایک کی جگہ دو کاغذ استعمال کرلئے ، پہلے میں کرایہ کی شق لکھ دی اور دوسرے میں تحفہ کی شق لکھ دی تو اب یہ پراڈکٹ حلال ہو جائے گی۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔

ت- مشارکہ متناقصہ (Diminishing Musharaka):

مشارکہ کہتے ہیں شراکت داری یا پارٹنر شِپ کو اور متناقصہ کا مطلب وہ جو کم ہوتی جائے۔یعنی آپ کوئی گاڑی یا گھر بینک کی مدد سے حاصل کر لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ ، جزوی طور پر اس کو خریدتے جاتے ہیں۔اسطرح اس شراکت داری میں بینک کا حصّہ کم ہوتا جاتا ہے ، اور آخر کار آپ اس چیز کے مکمل مالک بن جاتے ہیں۔ اس طرح یہ کرایہ اور خرید کا بیک وقت معاہدہ بن جاتا ہے جسے ہائر پرچیز Hire Purchase بھی کہا جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ آپ نے بینک کی مدد سے ایک گھر خریدا اور دس سال کا مشارکہ کر لیا۔فرض کیجئے کہ گھر کی قیمت ایک کروڑ روپے تھی ؛ اس قیمت کو آسانی کے لئے ۱۰۰ حصّوں میں تقسیم کرلیجئے۔ شروع میں تو یہ گھر مکمل طور پر بینک کی ملکیت تھا لہذٰا آپ اس گھر کا قبضہ حاصل کرنے کے عوض اسکا مکمل کرایہ ادا کریں گے، ساتھ ہی ساتھ آپ بینک کو کچھ رقم اضافی ادا کریں گے تاکہ آپ گھر کی ملکیت میں بھی حصّے دار بن سکیں۔ جیسے ہی آپ کی طرف سے ایک لاکھ روپے خرید کی مد میں مکمل ہوں گے، آپ ۱یک حصّے کے مالک بن جائیں گے۔ صارف کی سہولت کے لئے بینک مساوی ماہانہ اقساط کا شیڈول بنا دیتا ہے جن میں کرایہ اور خرید دونوں ہی شامل ہوتے ہیں۔ شروع کی اقساط میں کرایہ کا تناسب زیادہ ہوتا ہے ، جیسے جیسے ملکیت منتقل ہوتی جاتی ہے قسط میں کرایہ کا تناسب کم ہوتاجاتا ہے اور بقیہ حصص خریدنے کے کام آتا ہے ۔ یہانتک کہ دس سال کے عرصے میں آپ سو کے سو حصّے خرید لیں گے۔عام بینکوں میں یہی اصول سود کی واپسی کے لئے بھی استعمال کیاجاتا ہے اور اس شیڈول کو امارٹائزیشن شیڈول Amortization Schedule کہا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ پراڈکٹ بھی ایسے سودی معاہدے سے ملتی جلتی ہے جس میں کوئی شخص ایک عام بینک سے قرض لے کر گھر خریدتا ہے اور امارٹائزیشن شیڈول کے مطابق قرض واپس کر دیتا ہے۔مگر بظاہر اسلام کے نقطہ نظر سے کوئی حرج بھی نظر نہیں آتا کیونکہ اسلام میں کرائے کی بھی اجازت ہے، مشترکہ ملکیت کی بھی اجازت ہے جیساکہ ترکۂ وراثت میں ہوتا ہے، اور ایک شخص کوا پنا حصّہ دوسرے کو فروخت کرنے کی بھی اجازت ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے، کہ فرض کریں دس سال میں سے پانچ، چھ سال گذر گئے اور اسوقت تک صارف نے تقریباً آدھا مکان خرید لیا۔اب کسی وجہ سے صارف کرایہ و خرید جاری نہیں رکھ سکتا اور یہ معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ ہم گھر کرایہ پر لیتے ہیں اور پھر کسی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے معاملہ میں اصولی طور پر گھر کو بیچ دینا چاہئے اور جتنے پیسے وصول ہوں وہ بینک اور صارف میں آدھے آدھے تقسیم ہو جانے چاہئیں ۔اور صرف یہی چیز اس معاہدے کو ایک عام سودی معاہدے سے ممتاز کرسکتی ہے۔ مگر یہا ں بینک کہتا ہے کہ نہیں، ہم گھر فروخت کریں گے، جو رقم ملےگی اس میں سے اپنا اصل زر مع منافع وصول کریں گے، اگر کچھ بچا تو صارف کو دیں گے ورنہ نہیں۔ کیو نکہ بینک نے یہ وعدہ لیا ہوتا ہے کہ یہ گھر صارف نے ہر حال میں خریدناہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھر صارف نے ہر حال میں خریدناہے تو اسکا بنیادی مطلب یہ ہے کہ صارف نےگھر خریدنے کا معاہدہ کیاہے اور وہ اس کی قیمت کا اُدھار کر رہا ہے ، جسے وہ قسطوں میں ادا کردے گا۔ یعنی صارف نے گھر اُدھار پر خرید لیا ہے، اور اب یہ گھر صارف کا ہے، تواگرگھر صارف نے خرید لیا (چاہے ادھار پر) تواپنی ہی چیز کا کوئی کرایہ کیسے ادا کرسکتا ہے؟ یہ تو محض ایک اُدھار کا معاملہ ہے اور اُدھار کے معاملہ میں کچھ بھی نفع حاصل کرنا سود ہے۔ اس پراڈکٹ میں بھی وہی محیّرالعقول ترکیب بتائی گئی ہے کہ اگر ایک کاغذ استعمال کیا گیا تو یہ پراڈکٹ حرام ہے اور اگر دو کاغذ لگا لئے تو یہ حلال ہو جائےگی:

The agreement of joint purchase, leasing and selling different units of the share of the financier should not be tied-up together in one single contract. PAGE 121
۵ دلائل

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک نظر ان دلائل پر بھی ڈال لیں جو اسلامی بینکار عام طور پر پیش کرتے ہیں۔

آپ کو اکثر سننے کو ملے گا کہ ہاں ، یہ درست ہے کہ عملی طور پر ایک عام بینک اور اسلامی بینک کی ٹرانزیکشن میں کوئی فرق نہیں، اصل فرق صرف اس کاغذ کا ہے جو ہم لکھتے ہیں۔ دیکھیں ذبیحہ بھی تو ایسا ہی ہوتا ہے، اگر آپ بسم اللہ پڑھ لیں گے تو جانو ر حلال ہوجائے گا، نہیں پڑھیں گے تو حرام ہو جائے گا۔ نکاح اور بدکار ی میں بھی تو صرف ایک کاغذ لکھنے کا ہی فرق ہوتا ہے۔یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جوجانور اللہ تعالٰی نے ہماری غذا کے طور پر پیدا کیا ہے وہ فی نفسہٖ حلال ہے۔ اسی طرح میاں بیوی کا رشتہ فی نفسہٖ حلال ہے۔ بنیادی پر یہ چیز یں حلال ہیں، مگر ان میں کچھ حرمت کا پہلوموجود ہے جسے اللہ کے نبی ؐ نے ہمیں دور کرنے کا طریقہ تعلیم فرمادیا۔ کہ مثلاً ، خون بہا لیا جائے ، بسم اللہ پڑھ لی جائے۔ اس کے مقابلے میں سود فی نفسہٖ حرام ہے۔ آپ بسم اللہ پڑھ کر سود کو حلال نہیں کر سکتے ، بالکل اسیطرح جیسے آپ بسم اللہ پڑھ کر خنزیر کو حلال نہیں کرسکتے。

دوسری دلیل وہ یہ دیتے ہیں ، کہ ہاں ان پراڈکٹس میں مسائل ہیں لیکن یہ ہماری اس کوشش کا حصہ ہیں جس کے ذریعے ایک دن ہم صحیح پراڈکٹس تک بھی پہنچ جائیں گے۔ یہ دلیل بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ آپ نے اگر کوشش کرنی ہے تو صحیح پراڈکٹس ہی متعارف کرائیں اور اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ ان کو قبولیت عطا فرمائے ، یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ سود کانام بدل کے اس کو رائج کردیں اور اس امید میں بیٹھ جائیں کہ ایک دن لوگ خود ہی سود کھانا بند کردیں گے۔ ایسی ہی پراڈکٹس کانٹریکٹم ٹرینیس۳ کے نام سے پندرھویں صدی عیسوی میں عیسائیوں نے متعارف کرائی تھیں اور آہستہ آہستہ جب لوگوں کو احساس ہو ا کہ سود میں اور ان حیلہ جوئیوں میں کوئی فرق نہیں تو انہوں نے عام سود کو بھی حلال کرلیا۔ لہذٰا یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اگر مسلمان علما ء نے بھی اسیطرح کی حیلہ جوئیوں کو حلال کردیا تو باقی کا سود لوگ خود بخود حلال کرلیں گے۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا، یہ تمام تر تجزیہ ہماری رائے ہے اور اس کے غلط ہونے کابھی اسیطرح امکان موجود ہے جیسا کہ اسلامی بینکاری کے غلط ہونے کا امکان ۔لہذٰا قارئین سے درخواست ہے کہ وہ دونوں آرا پر غور فرمائیں اور اس کے بعد اپنا ذاتی فیصلہ خود کریں۔

اللھم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ وأرناالباطل باطلاًوارزقنااجتنابہ
۱ اصحاب سبت کا واقعہ

قرآن کریم سورہ بقرہ میں بیان کرتا ہے:

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلَّذِينَ ٱعْتَدَوْا۟ مِنكُمْ فِى ٱلسَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَـٰسِـِٔينَ ﴿٦٥﴾ فَجَعَلْنَـٰهَا نَكَـٰلًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ﴿٦٦﴾

تحقیق تم جانتے ہو انہیں جو حد سے گزر گئے ہفتے کے دن کے معاملے میں پس ہم نے کہا ان سے کہ ہو جاؤ بندر پھٹکارے ہوئے۔ (۶۵) پس ہم نے بنادیا اس (واقعے) کو عبرت اس زمانے اور اس کے بعد والوں کے لئے اور نصیحت ان کے لئے جو تقویٰ کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ (۶۶)

مزید سورہ اعراف میں آتا ہے:

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ ٱلْقَرْيَةِ ٱلَّتِى كَانَتْ حَاضِرَةَ ٱلْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِى ٱلسَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ ۙ لَا تَأْتِيهِمْ ۚ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ

(الاعراف ۱۶۳:۷)

اور پوچھیے ان سے اس بستی کا حال جو سمندر کے کنارے واقع تھی، جب وہ لوگ ہفتہ (کے دن کے احکام) میں حد سے گزر گئے، جب آئیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن کو اچھل اچھل کر اور ہفتے کے سوا باقی کسی دن وہ ان کے پاس نہ آئیں، اس طرح ہم نے ان کی آزمائش کی بوجہ اسکے کہ وہ نافرمان تھے

اس واقعے میں یہودیوں کی بڑی آزمائش تھی کہ وہ اس دل لبھانے والے شکار کو نظرانداز کیسے کریں، بالکل ایسے ہی آج ہمیں اس آزمائش کا سامنا ہے کہ ربا کو چھوڑیں یا نہ چھوڑیں۔ تفسیر ابن کثیر میں اس واقعہ کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں وہ مختصراً کچھ یوں ہیں:

اس دن کی عظمت کے طور پر ان پر شکار کھیلنا وغیرہ اس دن حرام کر دیا گیا۔ ادھر اللہ کی آزمائش کی بنا پر ہفتہ والے دن تمام مچھلیاں اوپر آ جایا کرتی تھیں اور کودتی اچھلتی رہتی تھیں لیکن باقی دنوں میں کوئی نظر ہی نہیں آتی تھی۔ ایک مدت تک تو یہ لوگ خاموش رہے اور شکار کرنے سے رکے رہے۔ بعد ازاں ان میں سے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ہفتہ والے دن مچھلی کو پکڑ لیا اور پھندے میں پھانس کر ڈوری کو کنارے پر کسی چیز سے باندھ دیا۔ اتوار والے دن جا کر نکال لایا اور پکا کر کھائی۔ لوگوں نے خوشبو پا کر پوچھا تو اس نے کہا میں نے تو آج اتوار کو شکار کیا ہے آخر یہ راز کھلا تو اور لوگوں نے بھی اس حیلہ کو پسند کیا اور اس طرح وہ سب مچھلیوں کا شکار کرنے لگے پھر تو بعض نے دریا کے آس پاس گڑھے کھود لئے ہفتہ والے دن جب مچھلیاں اس میں آ جاتیں تو اسے بند کر دیتے اور اتوار والے دن پکڑ لاتے کچھ لوگ جو ان میں نیک دل اور سچے مسلمان تھے وہ انہیں روکتے اور منع کرتے رہے لیکن ان کا جواب یہی ہوتا تھا کہ ہم ہفتہ کو شکار ہی نہیں کھیلتے ہم تو اتوار والے دن پکڑتے ہیں۔۔۔ بالآخر اس مسلم جماعت نے اس حیلہ جو فرقہ کا بالکل بائیکاٹ کر دیا اور ان سے بالکل الگ ہو گئے۔ بستی کے درمیان ایک دیوار کھینچ لی اور دروازہ اپنے لئے جانے کا رکھا اور ایک دروازہ ان نافرمانوں کے لئے‘ اس پر بھی ایک مدت اسی طرح گزر گئی ایک دن صبح مسلمان جاگے دن چڑھ گیا لیکن اب تک ان لوگوں نے اپنا دروازہ نہیں کھولا تھا اور نہ ان کی آوازیں آ رہی تھیں یہ لوگ متحیر تھے کہ آج کیا بات ہے؟ آخر جب زیادہ دیر لگ گئی تو ان لوگوں نے دیوار پر چڑھ کر دیکھا تو وہاں عجب منظر نظر آیا دیکھا کہ وہ تمام لوگ مع عورتوں بچوں کے بندر بن گئے ہیں ان کے گھر جو راتوں کو بند تھے اسی طرح بند ہیں اور اندر وہ کل انسان بندر کی صورتوں میں ہیں جن کی دُمیں نکلی ہوئی ہیں۔ [تفسیر سورہ بقرہ آیت ٦٣-٦٤]

جہاں تک قرآن کا بیان ہے ، وہ تو حجت ہے ، باقی تفسیر کے متعلق غالب امکان یہی ہے کہ یہ واقعہ اسی طرح یا اس سے ملتی جلتی کسی شکل میں رونما ہوا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہمارے لئے اس واقعے میں نصیحت بھی ہے اور عبرت بھی۔ لہٰذا ہمیں ہر حال میں ایسی حیلہ جوئیوں سے احتراز کرنا چاہئے اور دوسروں کو بھی یہی تلقین کرنی چاہئے۔ امام ابن کثیر اس ضمن میں ایک حدیث بھی بیان کرتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی طرح حیلے کر کے ذرا سی دیر کے لئے اللہ کے حرام کو حلال نہ کر لینا ۔ اس حدیث کو امام عبداللہ ابن بطہ لائے ہیں اور اس کی سند نہایت عمدہ ہے اس کے راوی احمد بن محمد بن سلم کا ذکر امام خطیب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں کیا ہے اور انہیں ثقہ کہا ہے باقی تمام راوی بہت مشہور ہیں اور سب کے سب ثقہ ہیں ایسی بہت سی سندوں کو امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے صحیح کہا ہے ۔

[تفسیر سورہ اعراف آیت ١٦٤-١٦٦]
حواشی
۱اسی موضوع پر تفصیلی گفتگو سننے کے لئے www.youtube.com/user/mhrizwan پر Concept of Interest and Islamic Banking کو وِزٹ کیجئے۔
۲اصحابِ سبت کا واقعہ قرآن کریم سورہ بقرہ (۶۵-۶۶) اور سورہ اعراف (۱۶۳) میں بیان ہوا ہے۔ تفصیل کے لئے تفسیر ابنِ کثیر ملاحظہ فرمائیں۔
۳مزید معلومات کے لئے: wikipedia.org/wiki/Contractum_trinius