Rizwan Zubair
Learn › Islamic Banking › Video 04

Islamic Banking 04: Diminishing Musharka

Islamic Banking 04 Diminishing Musharka

Islamic Banking 04 Diminishing Musharka · 4:48 · 2020-11-22 · Watch on YouTube

اگرچہ یہ پراڈکٹ بھی ایسے سودی معاہدے سے ملتی جلتی ہے جس میں کوئی شخص ایک عام بینک سے قرض لے کر گھر خریدتا ہے اور امارٹائزیشن شیڈول کے مطابق قرض واپس کر دیتا ہے۔مگر بظاہر اسلام کے نقطہ نظر سے کوئی حرج بھی نظر نہیں آتا کیونکہ اسلام میں کرائے کی بھی اجازت ہے، مشترکہ ملکیت کی بھی اجازت ہے جیساکہ ترکۂ وراثت میں ہوتا ہے، اور ایک شخص کوا پنا حصّہ دوسرے کو فروخت کرنے کی بھی اجازت ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے، کہ فرض کریں دس سال میں سے پانچ، چھ سال گذر گئے اور اسوقت تک صارف نے تقریباً آدھا مکان خرید لیا۔اب کسی وجہ سے صارف کرایہ و خرید جاری نہیں رکھ سکتا اور یہ معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ ہم گھر کرایہ پر لیتے ہیں اور پھر کسی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے معاملہ میں اصولی طور پر گھر کو بیچ دینا چاہئے اور جتنے پیسے وصول ہوں وہ بینک اور صارف میں آدھے آدھے تقسیم ہو جانے چاہئیں ۔اور صرف یہی چیز اس معاہدے کو ایک عام سودی معاہدے سے ممتاز کرسکتی ہے۔ مگر یہا ں بینک کہتا ہے کہ نہیں، ہم گھر فروخت کریں گے، جو رقم ملےگی اس میں سے اپنا اصل زر مع منافع وصول کریں گے، اگر کچھ بچا تو صارف کو دیں گے ورنہ نہیں۔ کیو نکہ بینک نے یہ وعدہ لیا ہوتا ہے کہ یہ گھر صارف نے ہر حال میں خریدناہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گھر صارف نے ہر حال میں خریدناہے تو اسکا بنیادی مطلب یہ ہے کہ صارف نےگھر خریدنے کا معاہدہ کیاہے اور وہ اس کی قیمت کا اُدھار کر رہا ہے ، جسے وہ قسطوں میں ادا کردے گا۔ یعنی صارف نے گھر اُدھار پر خرید لیا ہے، اور اب یہ گھر صارف کا ہے، تواگرگھر صارف نے خرید لیا (چاہے ادھار پر) تواپنی ہی چیز کا کوئی کرایہ کیسے ادا کرسکتا ہے؟ یہ تو محض ایک اُدھار کا معاملہ ہے اور اُدھار کے معاملہ میں کچھ بھی نفع حاصل کرنا سود ہے۔ اس پراڈکٹ میں بھی وہی محیّرالعقول ترکیب بتائی گئی ہے کہ اگر ایک کاغذ استعمال کیا گیا تو یہ پراڈکٹ حرام ہے اور اگر دو کاغذ لگا لئے تو یہ حلال ہو جائےگی:
The agreement of joint purchase, leasing and selling different units of the share of the financier should not be tied-up together in one single contract. PAGE 121