Rizwan Zubair
Learn › Islamic Banking › Video 01

Islamic Banking 01: Summary of day 1

Islamic Banking 01 Summary of day 1

Islamic Banking 01 Summary of day 1 · 3:38 · 2020-11-22 · Watch on YouTube

ا۔ سو د ہمیشہ قرض کے معاملہ میں ہوگا، کیونکہ صرف قرض کے معاملہ میں ہی اصل مال واپس ملنے کی ضمانت دی جاتی ہے۔ وگرنہ کسی بھی کاروبار میں نفع یا نقصان دونوں کا امکان ہے اور اصل مال کی واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ بالکل اسیطرح مکان کرایہ پر دیا جائے تو اس میں مکان ہوبہو حالت میں ملنے کو کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
ب۔ قرآن نے اصل مال کے علاوہ کچھ مزید لینے کی اجازت نہیں دی اور اس نفع کے لئے ، جو اصل مال کےاوپر لیا جاتا تھا ، ربا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ گویا قرض کے معاملہ میں کسی بھی قسم کا نفع اگر لیا جائے تو وہ ربا ہے۔ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ کے الفاظ اس امر کو مزید معیّن کردیتے ہیں۔
پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ربامحض وہ سود ہے جو غریب لوگوں سے لیا جائے اور امیروں سے لیا جانے والا نفع یا تجارتی قرضوں پر وصول کیا جانے والا سود ربا نہیں ؛ انہیں غور کرنا چاہئے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر قرآن میں الفاظ ہوتے کہ" تمہارے لیے ہیں تمہارے اصل مال اور وہ نفع جو تم صاحبِ استطاعت لوگوں سے لو۔ یا وہ نفع جو تم کاروبار کرنے والے لوگوں سے لو۔" یہاں یہ سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان معاہدات کو کامل طور پر منسوخ بھی فرماسکتے تھے مگر اس طرح قرض دینے والے سے زیادتی ہو جاتی۔ لہذٰا زیادتی کے امکان کو ختم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمادی کہ تم اپنے اصل مال واپس لے سکتے ہو۔ بالکل اسیطرح اگر کسی بھی قسم کا نفع لینے کی اجازت ہوتی تو پھر اس کی بھی اجازت دی جاتی ورنہ وہاں بھی ظلم کا معاملہ ہو جاتا۔ گویا اگر قرض دینے والا سود لے تووہ ظلم ہے اور اگر اس کا جائز مال اسے واپس نہ ملے تو یہ بھی ظلم ہے۔ لہذٰا اس کا جائز مال جو واپس مل سکتا ہے محض اصل مال ہے جسے پرنسپل principal بھی کہا جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح اگر کسی خاص شرح سے زیادہ سود ہی ربا ہوتا تو پھر کہا جاتا کہ تمہارے لئے ہیں "تمہارے اصل مال اور تھوڑا سا معقول نفع"۔ کیونکہ اگر تھوڑا سا نفع جائز ہوتا تو اس تھوڑے نفع کا نہ ملنا بھی ظلم کا معاملہ ہو جاتا۔