Rizwan Zubair
Learn › Quran Tafsir › Surah Al-Furqan › Session 306

Session 306: Surah Al-Furqan 13–23

سورہ فرقان، آیات ۱۳ تا ۲۳ — لفظی ترجمہ اور تفسیر

Quran Tafseer Sura Furqan Ayat 13 till 23 Session 306

Quran Tafseer Sura Furqan Ayat 13 till 23 Session 306 · 59:03 · 2026-09-27 · Watch on YouTube

سورۃ الفرقان کی آیات 13 تا 23 میں کفار کے دردناک انجام اور متقیوں کے لیے جنت کے لازوال انعام کے درمیان ایک واضح فرق بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات میں آخرت کا انکار کرنے والوں کے متکبرانہ مطالبات اور ان کے کھوکھلے اعمال کی حقیقت کو بھی واضح کیا گیا ہے۔

جہنم کی ہولناکی کا منظر، جہاں مجرموں کو زنجیروں میں جکڑ کر ایک تنگ جگہ پھینکا جائے گا اور وہ موت اور تباہی کو پکاریں گے (آیات 13-14)۔

اہلِ تقویٰ سے ہمیشگی کی جنت کا وعدہ، جو ان کے اعمال کی جزا اور ان کا حتمی ٹھکانہ ہے جہاں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی (آیات 15-16)۔

روزِ قیامت جھوٹے معبودوں کا اپنے پوجنے والوں سے بیزاری کا اظہار اور اس بات کی گواہی کہ انہوں نے خود کو رب نہیں بنوایا تھا (آیات 17-19)۔

رسول اللہ (ﷺ) پر قریش کے اعتراضات کا تسلی بخش جواب کہ پچھلے تمام انبیاء بھی انسان تھے جو کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے (آیت 20)۔

منکرین کا یہ متکبرانہ مطالبہ کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے یا ہم اللہ کو کیوں نہیں دیکھتے، اور فرشتوں کو دیکھ کر ان کی دہشت کی کیفیت (آیات 21-22)۔

کفار کے بظاہر اچھے اعمال کا انجام، جنہیں اللہ تعالیٰ ایمان اور اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے اڑتی ہوئی دھول (ہباء منثورا) بنا دے گا (آیت 23)۔

سوالات و جوابات کے سیشن کے بعد استاد عامر سہیل اور ان کے کورس 'لسان القرآن' کا تذکرہ، اور آخر میں باب افتعال کی عربی گرامر کی مشق۔

Surah Al-Furqan verses 13 to 23 present a stark contrast between the agonizing fate of the disbelievers and the eternal bliss promised to the righteous. These verses also address the arrogant demands of those who deny the Hereafter and the reality of their hollow deeds.

A chilling depiction of Hellfire, where the criminals will be bound in a narrow space, crying out for destruction (Ayat 13-14).

The eternal Paradise promised to the God-fearing (Muttaqun) as a reward and final destination where all desires are fulfilled (Ayat 15-16).

On the Day of Judgment, false deities will disown their worshippers, declaring that they themselves never claimed divinity (Ayat 17-19).

A comforting response to the Prophet (ﷺ) against the objections of the Quraish, clarifying that all previous messengers ate food and walked in markets, making them relatable human role models (Ayat 20).

The extreme arrogance of those who demand to see angels or Allah Himself, and the terror they will experience when they finally see the angels on the Day of Judgment (Ayat 21-22).

The tragic reality of the disbelievers' seemingly good deeds, which Allah will scatter like floating dust because they lacked faith and sincerity (Ayat 23).

A Q&A segment followed by a tribute to Ustadh Amir Sohail and his 'Lisan ul Quran' course, and a final Arabic Grammar lesson on Baab Ifti'aal.

Timestamps:
00:00:00 Introduction
00:00:48 {13-14} وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ
00:05:28 {15-16} قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ
00:10:24 {17-19} وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ
00:29:38 {20} وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ
00:37:33 {21} وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ
00:40:58 {22} يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ
00:43:11 {23} وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا
00:48:56 استاد عامر سہیل اور لسان القرآن کا تذکرہ

00:50:13 استاد عامر سہیل کا پیغام
00:54:30 گرامر کی دہرائی (باب افتعال)