(ض) وَصٰى يَصِيْ وَصْيًا (اصلی: وَصَيَ يَوْصِيُ): کسی چیز کا کسی چیز سے پیوستہ ہونا، جیسے گھاس ایک دوسرے میں گتھی ہوتی ہے؛ پھر کسی کام کے لیے کسی بات کا پیوستہ ہونا، یعنی تاکید ہونا۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
وَصِيَّةٌ (فَعِيْلَةٌ کے وزن پر): تاکید، وصیت (اردو میں «وصیت» اسی معنی میں)۔ ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَيْرَۨا الْوَصِيَّةُ﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۰)
(افعال) اَوْصٰى يُوْصِيْ اِيْصَآءً: کسی بات یا کام کی تاکید کرنا، وصیت کرنا؛ مُوْصٍ (اسم الفاعل): وصیت کرنے والا۔ ﴿يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ﴾ (النساء ۴:۱۱)؛ ﴿مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ﴾ (النساء ۴:۱۱)؛ ﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا﴾ (البقرۃ ۲:۱۸۲)
(تفعیل) وَصّٰى يُوَصِّيْ تَوْصِيَةً: (بار بار اور اہتمام سے) تاکید کرنا، وصیت کرنا۔ ﴿وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰهِۦمُ بَنِيْهِ وَيَعْقُوْبُ﴾ (البقرۃ ۲:۱۳۲)؛ ﴿وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ﴾ (لقمٰن ۳۱:۱۴)
(تفاعل) تَوَاصٰى يَتَوَاصٰى تَوَاصِيًا: باہم ایک دوسرے کو تاکید کرنا۔ ﴿وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ (العصر ۱۰۳:۳)
اردو میں اس مادے سے: وصی۔