(ض) وَصَلَ يَصِلُ وَصْلًا وَصِلَةً (اصلی: وَصَلَ يَوْصِلُ): (لازم) کسی تک پہنچنا، ملنا (اردو میں «وصل» اسی معنی میں)؛ (متعدی) جوڑنا، ملانا۔ ﴿وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهِۦٓ اَنْ يُّوْصَلَ﴾ (الرعد ۱۳:۲۱)؛ ﴿لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ﴾ (ھود ۱۱:۸۱)
(تفعیل) وَصَّلَ يُوَصِّلُ تَوْصِيْلًا: لگاتار جوڑتے جانا، پے در پے پہنچانا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ﴾ (القصص ۲۸:۵۱)
(مفاعلہ) وَاصَلَ يُوَاصِلُ مُوَاصَلَةً: لگاتار جاری رکھنا؛ باہم ملتے اور رابطہ رکھتے رہنا (اردو میں «مواصلات»: ذرائعِ آمد و رفت اور رابطہ؛ عربی میں: لگاتار جاری رکھنا، باہم ملتے رہنا)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
(افتعال) اِتَّصَلَ يَتَّصِلُ اِتِّصَالًا: (کسی چیز سے) ملا ہوا ہونا، جڑ جانا (اردو میں «اتصال، متصل» اسی معنی میں)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: وصول، وصولی (رقم حاصل کرنا، وصولی؛ عربی میں: پہنچنا، رسائی)؛ اتصال، مواصلات۔
«مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں» (بانگِ درا)