(ف) وَضَعَ يَضَعُ وَضْعًا (اصلی: وَضَعَ يَوْضَعُ): (۱) کسی چیز کو اتار کر نیچے رکھنا (اردو میں «وضع»: بناوٹ، انداز، طرز؛ عربی میں: رکھنا، اتارنا، قائم کرنا)؛ «عَنْ» کے ساتھ: کسی سے (بوجھ) ہٹا دینا (۲) (بچہ) جننا (۳) (کسی چیز کو) قائم کرنا۔ ﴿وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ﴾ (الانشراح ۹۴:۲)؛ ﴿وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ﴾ (الرحمٰن ۵۵:۷)؛ ﴿قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ وَضَعْتُهَآ اُنْثٰى﴾ (اٰل عمران ۳:۳۶)
مَوْضُوْعٌ (اسم المفعول): رکھا ہوا (اردو میں «موضوع»: عنوان، مبحث؛ عربی میں: رکھا ہوا)۔ ﴿وَّاَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌ﴾ (الغاشیۃ ۸۸:۱۴)
مَوْضِعٌ ج مَوَاضِعُ (مَفْعِلٌ کے وزن پر اسم الظرف): رکھنے کی جگہ، مقام (اردو میں «موضع»: گاؤں، دیہات؛ عربی میں: رکھنے کی جگہ، مقام)۔ ﴿يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِۦ﴾ (النساء ۴:۴۶)
(افعال) اَوْضَعَ يُوْضِعُ اِيْضَاعًا: (سواری کو) تیز دوڑانا؛ (فتنہ پھیلانے کے لیے) دوڑ دھوپ کرنا۔ قرآن میں صرف ایک بار: ﴿وَّلَاَاوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ يَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ﴾ (التوبۃ ۹:۴۷)
(تفاعل) تَوَاضَعَ يَتَوَاضَعُ تَوَاضُعًا: عاجزی اختیار کرنا، اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا (اردو میں «تواضع»: مہمان نوازی، خاطر مدارات؛ عربی میں: عاجزی، انکساری)۔ (یہ فعل قرآن میں استعمال نہیں ہوا)۔
اردو میں اس مادے سے: تواضع (مہمان نوازی، خاطر مدارات؛ عربی میں: عاجزی، انکساری)۔
«انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں» (بانگِ درا)
«پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی» (بانگِ درا)